مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 44 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 44

کے معنے ان کے نزدیک یہ ہیں کہ ”جیسے خاتمہ بفتح تاء کا اثر اور نقش مختوم علیہ میں ہوتا ہے ایسے ہی موصوف بالذات کا اثر موصوف بالعرض میں ہوگا“ ( تحذیر الناس صفحہ ۱۰) گویا خاتم الانبیاء کے معنیٰ آپ کے نزدیک نبوت میں مؤثر وجود ہیں ان معنیٰ کی اصل حقیقت یہ ہے کہ لفظ ختم کے مصدری معنی میں صرف ایجاد کا مفہوم پایا جاتا ہے اور بنیادی طور پر موجد کے لئے صاحب کمال اور دوسروں سے افضل ہونا بھی ضروری ہے۔چنانچہ مفردات راغب میں جو لغتِ قرآنی کی مستند کتاب ہے۔لکھا ہے:۔الْخَتُمُ والطَّبْعُ يُقَالُ عَلى وَجْهَيْنِ مَصْدَرُ خَتَمْتُ وَطَبَعْتُ وَهُوَ تَأْثِيرُ الشَّيْيَ كَنَقْشِ الْخَاتَمِ وَالثَّانِي الْأَثْرُ الحَاصِلُ مِنَ (المفردات زیر لفظ ختم ) الشَّقْشِ۔کہ ختم اور طبع کی دو صورتیں ہیں۔صورت اول مصدری معنوں کے لحاظ سے مہر کے نقش کی طرح آگے اثر پیدا کرنا ہے۔یہ ختم کے مصدری اور حقیقی معنی ہیں اور دوسرے معنی اس کے نقش سے حاصل شدہ اثر کے ہیں اور یہ معنی ختم کے مصدری معنوں کا اثر ہیں۔پس مصدری یعنی لغوی معنی کے لحاظ سے خاتم الانبیاء حقیقی طور پر وہ شخص ہو گا جو اپنے بعد کمالات نبوت میں مؤثر ہو یعنی اپنے ذریعہ نبوت کا اثر چھوڑے اور اس کے فیض سے لوگوں میں کمالات نبوت پیدا ہوں اور حسب ضرورت نبوت کا منصب بھی مل سکے۔اور چونکہ ایسا صاحب کمال اللہ تعالیٰ نے صرف ایک شخص یعنی آنحضرت کو ہی قرار دیا ہے اس لئے لازمی طور پر خاتم الانبیاء کا افضل الانبیاء ہونا اور آخر الانبیاء بمعنی آخری شارع اور مستقل نبی ہونا ضروری ہے۔مطلق آخری نبی خاتم الانبیاء کے الفاظ کے صرف مجازی معنے تو ہو سکتے ہیں مگر حقیقی معنی 44