مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 42
66 التبيين “ سے مراد نبیوں میں سے شریعت کی ہر طرح سے تکمیل کر دینے والے نبی کے ہوئے جن کے بعد کوئی شارع نبی نہیں آسکتا بلکہ اگر آ سکتا ہے تو ان کی خاتمیت کے فیض سے ہی اثر پذیر ہوکر اور ان کی شریعت کی پیروی کرنے کے بعد بہ حیثیت ایک امتی نبی ہی کے آسکتا ہے جیسا کہ مسیح موعود کا امتی نبی ہونا حدیثوں میں بھی مذکور ہے اور علماء امت کا بھی مذہب رہا ہے۔مسیح موعود آپ کے بعد آنے والا بھی تھا اور امتی نبی بھی تھا۔لہذا امتی نبوت ختم نبوت کے منافی نہیں۔پس یہ سیاق کلام جو صرف مودودی صاحب کے دماغ کی پیداوار ہے۔اس نے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں دیا بلکہ وہ اپنے مقصد میں سراسر نا کام رہے ہیں۔اصل سیاق آیت یہ بات ہم نے مودودی صاحب کے سیاق کو بطور فرض محال تسلیم کر کے جوا بالکھی ہے ورنہ در اصل سیاق آیت یہ ہے کہ جب خدا نے فرما یا ما كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ که محمد ال ی ل ی م م م مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں تو اس سے کافروں کے دلوں میں طبعاً یہی ایک سوال پیدا ہوسکتا تھا کہ جب محمد رسول اللہ مرودں میں سے کسی کے باپ نہیں تو ( معاذ اللہ ) وہ ابتر اور لاوارث ہوئے۔اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس فقرہ میں آپ کے باپ ہونے کی نفی مطلق طور پر نہیں کی گئی بلکہ جسمانی طور پر باپ ہونے کی نفی کی گئی ہے ورنہ رسُول اللہ “ اور ”خاتم النبیین “ ہونے کے لحاظ سے آپ معنوی اور روحانی باپ ضرور ہیں۔رسول اللہ ہونے کے لحاظ سے آپ امت کے باپ ہیں اور خاتم النبیین ہونے کے لحاظ سے آپ نبیوں کے بھی باپ ہیں نہ کہ مطلق آخری نبی۔66 ہمارے پیش کردہ سیاق کی حضرت مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی دارالعلوم دیو بند بھی تائید کرتے ہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں :- 42