مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 41 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 41

اگر اس کے باوجود مودودی صاحب کو اصرار ہو کہ کم از کم ان کے روشن دماغ میں تو ما كَانَ مُحَمَّدُ أَبَا أَحَدٍ سے زَوَّجُنُكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَج کی موجودگی میں بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے یہ نکاح کیوں کیا ؟ تو ہم ان کی خدمت میں عرض پرداز ہیں کہ انہوں نے وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِین کے الفاظ کا یہ ترجمہ کس بناء پر کیا ہے کہ ” کوئی رسول تو درکنار کوئی نبی تک آنے والا نہیں ہے حالانکہ در کنار کے مفہوم کے لئے آیت ہذا میں کوئی لفظ موجود نہیں بلکہ یہ لفظ آپ نے خاتم النبیین کے اپنے مفروض اور خیالی مفہوم کو سہارا دینے کے لئے ترجمہ میں داخل کر دیا ہے۔اگر بالفرض اس جگہ مودودی صاحب کے خیال میں یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اس نکاح کا کرنا کیا ضرور تھا ؟ تو نکاح تو ایک شرعی مسئلہ تھا جسے ایک شارع نبی ہی اپنے قول یا فعل سے حل کر سکتا تھا اس لئے جواب میں رسول اللہ اور خاتم النبیین “ کے الفاظ اس صورت میں آپ کی شرعی حیثیت کو بیان کرنے کے لئے سمجھے جاسکتے ہیں رسول اللہ کے الفاظ ایک شارع رسول کی حیثیت ظاہر کرنے کے لئے اور خاتم النبیین کے الفاظ نبیوں میں سے ایک اکمل شریعت لانے والے نبی کی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لئے ہیں۔چنانچہ مودودی صاحب نے خود لکھا ہے:۔وو یعنی اُن ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لئے ضروری تھا کہ جس چیز کو تمہاری رسموں نے خواہ مخواہ حرام کر رکھا ہے اس کے بارے میں تمام تعصبات کا خاتمہ کر دیں اور اس کی حلت کے معاملے میں کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہ رہنے دیں (رساله ختم نبوت صفحه ۶) جب اس غرض کے لئے بقول مودودی صاحب "رسول اللہ “ اور ” خاتم النبیین“ کے الفاظ لائے گئے تو صاف ظاہر ہے کہ اس جگہ ”رسول“ سے مراد شارع رسول“ اور” خاتم 41