مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 35
امت کو بجز مودودی صاحب مسلّم ہے اور یہ عقیدہ بموجب حدیث صحیح مسلم خاتم النبیین کے منافی نہیں اور آیت خاتم النبیین کے لازمی معنی آخری شارع اور مستقل نبی قرار پاتے ہیں نہ کہ محض آخری نبی جو بقول مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی محض ایک عامیانہ خیال ہے نہ کہ اہل فہم کے معنی پس مودودی صاحب کا رسالہ ختم نبوت ان کا کوئی علمی کارنامہ نہیں محض بعض سطحی خیالات کا مرقع ہے۔ข امام غزائی پر افتراء مودودی صاحب نے جو حوالہ جات پیش کئے ہیں ان میں سے بعض میں کتر و بیونت سے کام لیا ہے لیکن امام غزالی علیہ الرحمہ کے حوالہ میں صریح تحریف سے بھی کام لیا ہے چنانچہ اپنے رسالہ کے صفحہ ۲۴ پر مودودی صاحب نے امام غزالی کی کتاب الاقتصاد صفحہ ۱۱۳ کے حوالہ سے ان کی طرف ذیل کی عبارت منسوب کی ہے:۔امت نے بالا تفاق اس لفظ لا نبی بعدی سے یہ سمجھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد کسی نبی اور کسی رسول کے کبھی نہ آنے کی تصریح فرما چکے ہیں اور یہ کہ اس میں کسی تاویل و تخصیص کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔اب جو شخص اس کی تاویل کر کے اسے کسی خاص معنی کے ساتھ مخصوص کرے اس کا کلام محض بکواس ہے جس پر تکفیر کا حکم لگانے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کیونکہ وہ اس نص کو جھٹلا رہا ہے جس کے متعلق تمام امت کا اجماع ہے“ (رساله ختم نبوت صفحه ۲۴-۲۵) جن الفاظ پر ہم نے خط کھینچ دیا ہے یہ الفاظ امام غزالی پر سراسر افتراء ہیں کیونکہ ان کی کتاب الاقتصاد صفحہ ۱۱۳ پر ہرگز ایسے الفاظ موجود نہیں۔جن کا ترجمہ یہ الفاظ ہوسکیں۔مولوی مودودی صاحب نے امام غزائی کے فتویٰ کے رو سے احمدیوں کو خاتم النبیین کی نص کا مکذب 35