مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 36 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 36

اور کا فرٹھہرانے کے لئے امام غزالی کی طرف یہ الفاظ منسوب کر کے ان پر افتراء کیا ہے۔کیونکہ الاقتصاد میں کوئی ایسی عبارت موجود نہیں جس کا یہ ترجمہ ہو سکے، جومودودی صاحب نے درج کیا ہے بلکہ اس عبارت سے کچھ پہلے امام غزالی تحریر فرماتے ہیں:۔"جو شخص حضرت ابوبکر کے وجود اور ان کی خلافت سے انکار کرے اس کی تکفیر لازم نہیں ہوگی کیونکہ یہ اصول دین میں سے جن کی تصدیق ضروری ہے کسی اصل کی تکذیب نہیں ہے بخلاف حج اور نماز اور ارکانِ اسلام کے۔ہم اسے اجماع کی مخالفت کی بناء پر کافر نہیں ٹھہرائیں گے کیونکہ ہمیں نظام کو کا فرٹھہرانے میں بھی اعتراض ہے۔جو سرے سے اجماع کے وجود کا ہی منکر ہے کیونکہ اجماع کے قطعی حجت ہونے میں بہت مشبہ ہے۔جب اجماع کے منکر پر امام غزالی اجماع کے قطعی حجت ہونے میں مشبہ کی بناء پر کفر کا فتویٰ نہیں لگاتے اور سرے سے اجماع کے وجود کے منکر کو بھی کافر نہیں ٹھہراتے تو یہ کس طرح ممکن ہے وہ آگے چل کر خود ہی لا نبی بعدی کی تاویل کرنے والے کو نص کا مکذب اور کافر ٹھہراتے ؟ پس مودودی صاحب نے امام غزالی کی طرف سے اپنے رسالہ ختم نبوت میں جو عبارت نقل کی ہے اس کے خط کشیدہ الفاظ سراسر محرف ہیں اور امام غزالی پر افتراء ہیں۔ایک دینی عالم کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ خدا کے خوف کو بالائے طاق رکھ کر حوالہ کے پیش کرنے میں اس قسم کی خیانت سے کام لے جس کا ارتکاب مودودی صاحب نے اس عبارت میں کیا ہے۔مودودی صاحب یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ میں نے اپنی سمجھ کے مطابق امام غزالی کی تحریر کا مفہوم لکھا ہے کیونکہ تحقیقاتی کمیشن کے سامنے دس سوالوں کے جواب میں وہ امام غزالی کی کتاب 36