مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 34 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 34

مسیح موعود پروحی نازل ہونے متعلق علماء کا عقیدہ مسیح موعود پر صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق وحی نازل ہونے کا عقیدہ بھی علمائے امنت میں مسلم ہے۔چنانچہ علامہ الوہی رُوح المعانی میں بحوالہ ابن حجر ہیٹی لکھتے ہیں :۔نَعَمُ يُوحَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَحَى حَقِيقِيُّ كَمَا فِي حَدِيثِ مُسْلِمٍ - ( تفسیر روح المعانی جلدے صفحہ ۶۵) یعنی ہاں عیسی علیہ السلام پر بعد از نزول وحی حقیقی نازل ہوگی جیسا کہ مسلم کی حدیث میں آیا ہے۔اور پھر لکھا ہے:۔حَدِيثُ لَا وَحْيَ بَعْدَ مَوْتِ بَاطِلُ وَمَا اشْتَهَرَ أَنَّ جِبْرِيلَ لَا يَنْزِلُ إِلَى الْأَرْضِ بَعْدَ مَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ لَا أَصْلَ لَهُ - (روح المعانی جلد 2 صفحہ ۶۵) یعنی حدیث لا وحی بعد موتی بے اصل ہے اور یہ جو مشہور ہے کہ جبریل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد زمین پر نازل نہیں ہوتے یہ بے اصل ہے۔پس مودودی صاحب کی یہ دونوں باتیں کہ مسیح موعود نبی کی حیثیت میں مبعوث نہیں ہوگا اور اس پر وحی نازل نہیں ہوگی حدیث نبوی کے بھی خلاف ہیں اور علمائے امت کے عقیدہ کے بھی خلاف ہیں۔اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ انہوں نے یہ دونوں باتیں کہاں سے اخذ کی ہیں کیونکہ خدا اور رسول کے اقوال تو ان کا ماخذ نہیں ہو سکتے۔خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں مسیح موعود کا امتی نبی کی حیثیت میں آنا علمائے 34