مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 25
میں نہیں لوٹیں گے۔گو یا خدا تعالیٰ نے اپنے اس قول کی وجہ سے ان کی اس آرزو کو پورا نہ کیا حالانکہ اس کا وعدہ تھا کہ وہ ان کی آرزو پوری کرے گا لیکن چونکہ انہوں نے ایسی آرزو کی جو خدا تعالیٰ کے پہلے قول کے خلاف تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنے قانون کے خلاف ہونے کی وجہ سے اُن کی آرزو پوری نہیں کی۔( مشکوۃ باب جامع المناقب) پس مردہ کا دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں آنا جب قرآن مجید میں خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کے خلاف ہے تو مودودی صاحب کا یہ خیال کہ حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ زندہ ہو کر آجائیں گے ایک خیال خام اور وہم سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں رکھتا جسمیں وہ مسلمانوں کو مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔پس اس مسئلہ کا مدار محض قدرت الہی پر نہیں رکھا جاسکتا۔گوا سے مردہ کو زندہ کرنے کی قدرت تو ہے مگر اس کا دنیا میں ظہور اس کے اپنے وعدہ و قانون کے خلاف ہے۔سوال ۵ لیکن اگر حضرت مسیح کی وفات مان کر ان کا دوبارہ زندہ کیا جانا بھی فرض کیا جائے تو اس پر ہمارا یہ سوال ہے کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام وفات پانے کے بعد زندہ ہوکر آئیں گے تو پھر مودودی صاحب ان حدیثوں کی کیا تاویل کریں گے جنہیں وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان سے اترنے کے ثبوت میں اپنے رسالہ میں پیش کر رہے ہیں اگر حضرت مسیح کے آسمان سے اترنے کی تعبیر ان کے دوبارہ زندہ کیا جانے سے ہو سکتی ہے تو اس کی یہ تعبیر کیوں نہیں ہوسکتی کہ ان احادیث سے مراد یہ ہے کہ کوئی امتی فرد حضرت عیسی علیہ السلام کا مثیل ہو کر آئے گا اور اپنے ساتھ آسمانی تائید رکھتا ہوگا کیونکہ مردہ کا زندہ ہو کر آنا تو قرآن مجید اور احادیث نبوی میں بیان کردہ قانون کے صریح خلاف ہے مگر ہماری تعبیر تو کسی آیت قرآنیہ کے خلاف نہیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں :۔25