مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 26 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 26

یا در ہے کہ ہم میں اور ان لوگوں میں بجز اس ایک مسئلہ کے اور کوئی مخالفت نہیں۔یعنی یہ کہ یہ لوگ نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کو چھوڑ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے قائل ہیں اور ہم بموجب نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ متذکرہ بالا کے اور اجماع ائمہ اہل بصارت کے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔اور نزول سے مراد وہی معنے لیتے ہیں جو اس سے پہلے حضرت ایلیا نبی کے دوبارہ آنے اور نازل ہونے کے بارے میں حضرت عیسی علیہ السلام نے معنے کئے تھے۔فَسْتَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔اور ہم بموجب نص صریح قرآن شریف کے جو آیت فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ سے ظاہر ہوتی ہے اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جولوگ اس دنیا سے گزر جاتے ہیں پھر وہ دنیا میں دوبارہ آباد ہونے کے لئے نہیں بھیجے جاتے اس لئے خدا نے بھی اُن کے لئے قرآن شریف میں مسائل نہیں لکھے کہ دوبارہ آکر مال تقسیم شدہ ان کا کیونکران (ایام الصلح صفحہ ۸۸، ۸۹) کو ملے (ج) مودودی صاحب لکھتے ہیں :۔” بہر حال جو شخص حدیث کو مانتا ہے اسے یہ ماننا پڑیگا۔کہ آنے والے وہی عیسی بن مریم ہوں گے۔وہ پیدا نہیں بلکہ نازل ہوں گے۔“ سوال اس پر ہمارا سوال ہے کہ جب مودودی صاحب نے ان کی وفات فرض کر کے ان کا دوبارہ زندہ ہو کر آنامان لیا تو جب ان احادیث میں نزول کے لفظ کی تعبیر مر کر زندہ ہونے سے ہو سکتی ہے تو اس کی تعبیر مسیح موعود کے امت محمدیہ میں پیدا ہونے سے کیوں نہیں ہوسکتی؟ جبکہ قرآن مجید 26