مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 24
فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى (سورہ زمر رکوع ۵) یعنی اللہ قبض کرتا ہے روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جو نہ مریں انہیں نیند میں قبض کرتا ہے۔پس جس روح پر موت وارد کرتا ہے اسے روکے رکھتا ہے اور دوسری کو ایک مقررہ مدت تک واپس بھیجتا رہتا ہے۔یہ آیت اس امر پر شاہد ناطق ہے کہ جس نفس پر موت وارد ہوتی ہے اسے خدا تعالیٰ رو کے رکھتا ہے یعنی دوبارہ دُنیا میں نہیں بھیجتا۔ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے:۔ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذلِكَ لَمَيْتُونَ، ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ تُبْعَثُونَ (مومنون رکوع ۱) یعنی (جسمانی زندگی کے بعد ) پھر تم ضرور مرنے والے ہو۔پھر تم قیامت کے دن ہی زندہ کئے جاؤ گے۔یہ آیت بھی اس بات پر نص صریح ہے کہ جسمانی موت کے بعد اس دُنیا میں دوبارہ زندہ کیا جانا خدا تعالیٰ کے اس وعدہ اور قانون کے خلاف ہے جو وہ قرآن مجید کی آیت میں بیان کر چکا ہے بلکہ مرنے والے حسب وعدہ الہی قیامت ہی کو زندہ ہوں گے۔اسی طرح حدیث میں وارد ہے کہ حضرت جابر کے والد حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ جب شہید ہو گئے اور وہ خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہوئے تو خدا تعالیٰ نے انہیں کہا تم عَلَى أُعْطِكَ تو آرزو کر میں تیری آرزو پوری کروں گا۔اس پر حضرت عبداللہ نے یہ آرزو کی کہ میں دوبارہ زندہ کیا جاؤں تا کہ خدا کی راہ میں دوبارہ قتل کیا جاؤں۔ان کی اس آرزو پر خدا تعالیٰ نے فرمایا۔قَدْ سَبَقَ مِنِى الْقَوْلُ إِنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ کہ یہ میرا قول ہو چکا ہے کہ مرنے والے دُنیا 24