مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 19
جاچکی ہے۔(۱۱) حضرت مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیو بند تحریر فرماتے ہیں:۔عوام کے خیال میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہلِ فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم و تأخیر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔پھر مقام مدح میں وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِاين فرمانا کیونکر صحیح ( تحذیر الناس صفحہ ۳) ہو سکتا ہے گویا خاتم النبیین کے معنی مودودی صاحب کی طرح محض آخری نبی آپ کے نزدیک عوام کے معنی ہیں نہ کہ اہلِ فہم کے معنی۔پھر وہ خاتم النبیین کے معنی یہ بیان فرماتے ہیں:۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور سوا آپ کے اور نبی موصوف بوصف نبوت بالعرض ہیں۔اوروں کی نبوت آپ کا فیض ہے مگر آپ کی نبوت کسی اور کا فیض نہیں۔اس طرح آپ پر سلسلہ نبوت مختم ہو جاتا ہے غرض جیسے آپ نبی اللہ ہیں ویسے ہی نبی الانبیاء بھی ( تحذیر الناس صفحہ ۴،۳) گویا نبی الانبیاء خاتم النبیین کے معنی ہیں جو اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا وصف نبوت ذاتی ہے اور آپ کے سوا دیگر تمام انبیاء کا وصف نبوت عرضی ہے یعنی آپ کا فیض ہے۔ان معنوں کا مفاد آپ یہ بیان فرماتے ہیں :۔بالفرض اگر بعد زمانہ نبوی صلے اللہ علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو 19