مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 18
ہیں۔اور کوئی اس کمال کو نہیں لا یا۔(۷) رئیس الصوفیاء حضرت مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :- فکر کن در راه نیکو خدمتے تا نبوت یابی اندر اُتے ( مثنوی دفتر اول صفحه ۵۳) یعنی خدا کی راہ میں نیکی بجالانے کی ایسی تدبیر کر کہ تجھے امت کے اندر نبوت مل جائے۔(۸) حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :۔خُتِمَ بِهِ النَّبِيُّونَ أَى لَا يُوجَدُ مَنْ يَأْمُرُهُ اللهُ سُبْحَانَهُ بالتشريع عَلَى النَّاسِ۔(تفہیمات الہیہ تفہیم نمبر ۵۳) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نبی ختم ہونے کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں ہوسکتا جسے خدا تعالیٰ شریعت دے کر لوگوں کی طرف مامور کرے۔(۹) حضرت مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی فرنگی محلی تحریر فرماتے ہیں :۔بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مجز دکسی نبی کا ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شرع جدید البتہ منع ہے“ دافع الوسواس فی اثر ابن عباس ایڈیشن جدید صفحہ ۱۶) (۱۰) نواب صدیق حسن خانصاحب کے فرزند مولوی نورالحسن کی مرتبہ کتاب میں لکھا ہے :۔حديث " لَا وَحْيَ بَعْدَ مَوْتى بے اصل ہے ہاں لا نبی بعدی آیا ہے۔اس کے معنی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی شرع ناسخ نہیں لائے ( اقتراب الساعۃ صفحہ ۱۶۲) گا یہ عبارت در اصل امام علی القاری علیہ الرحمہ کی ایک عبارت کا ترجمہ ہے جو پہلے پیش کی 18