مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 89 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 89

لو فتح هذا الباب اگر یہ دروازہ (یعنی اجماع کو حجت ای باب انکار کون ماننے سے انکار کا دروازہ کھول دیا الاجماع حجة انجر الى جائے تو بڑی فتیح باتوں تک نوبت پہنچ امور شنيعة وهو ان قائلاً جاتی ہے۔مثلاً اگر کہنے والا کہے کہ لو قال يجوزان يبعث ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسول بعد نبينا محمد کسی رسول کی بعثت ممکن ہے تو اس کی صلى الله عليه وسلم تکفیر میں تامل نہیں کیا جاسکتا لیکن فيبعد التوقف في تكفيره ومستبعد استحالة ذلك بحث کے موقعہ پر جوشخص اس تکفیر میں عند البحث تَسْتَمِلُ من تامل کو ناجائز ثابت کرنا چاہتا ہوا سے الاجماع لا محالة فان لا محالہ اجماع سے کام لینا پڑیگا کیونکہ العقل لا يحيله وما نقل عقل اس کے عدم جواز کا فیصلہ دیتی من قوله لا نبی بعدی و من ہے اور جہانتک نقل کا تعلق ہے اس قوله تعالى خاتم عقیدے کا قائل لا نبی بعدی اور خاتم النبيين فلا يعجز هذا النبیین کی تاویل کرنے سے عاجز نہ القائل عن تأويله فيقول ہوگا۔وہ کہے گا کہ خاتم النبیین خاتم النبيين اراد به مراد اولوالعزم رسولوں کا خاتم ہونا اولو العزم من الرسل ، فان ہے۔اور اگر کہا جائے کہ النبیین کالفظ قال النبيين عام فلا عام ہے تو عام کو خاص قرار دے دینا يبعد تخصيص العام و اس کے لئے کچھ مشکل نہ ہوگا اور لا نبی به الرسول وفرق بين بعدی کے متعلق وہ کہہ دے گا کہ لا رسول بعدی تو نہیں کہا گیا اور رسُول قوله لا نبي بعدى لم يرد النبي والرسول 89