خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 96 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 96

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 96 96 نبی کرم ﷺ کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء نہیں رکھتا۔اگر میرا انتقال اس حالت میں ہو جاتا تو البتہ مجھ سے اس بات کی امید تھی کہ میں اہل جنت میں سے ہوتا۔اس کے بعد ہم بہت سی باتوں کے ذمہ دار ہو گئے۔معلوم نہیں کہ میرا ان میں کیا حال رہے گا؟ پس جب میرا انتقال ہو جائے تو میرے جنازہ پر کوئی نوحہ گر نہ آئے اور آگ نہ جلائی جائے اور پھر جب مجھے دفن کرنے لگو تو میری قبر پر تھوڑی تھوڑی مٹی ڈالنا اور پھر میری قبر کے ارد گر داتنی دیر ٹھہر نا کہ اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جائے تا کہ میں تم سے انس حاصل کروں اور دیکھوں کہ اپنے رب کے فرستادہ فرشتوں سے کیا گفتگو کرتا ہوں؟ ( صحیح مسلم کتاب الایمان باب کون الاسلام يهدم بما قبله وكذا الهجرة والج) یہ تو محض ایک مثال ہے ورنہ نفرت کو عشق میں تبدیل کرنے کے واقعات ایسی بکثرت اور اتنے درخشندہ ہیں کہ انکا شمار اور لطافتوں کا بیان ممکن نہیں۔جب آنحضور ﷺ نے دعوی فرمایا تو بجز خدا اور چند بندگان خدا کے کون تھا جو آپ کا حامی تھا؟ بڑے بھی آپ کی جان کے دشمن ہوئے اور چھوٹے بھی ، امیر بھی اور غریب بھی ، اپنے بھی اور غیر بھی، قریش کے ہر قبیلہ نے آپ کے قتل کا اجماع کیا۔آپ کی سلامتی اور فلاح کے جواب میں ہر طرف سے گالیاں اور آزار آپ کے حصے میں آئے ، جان کو بھی دیکھ دیئے گئے اور جسم کو بھی ، اوجڑیاں آپ کی پیٹھ پر اور خاک آپ کے بالوں میں ڈالی گئی لیکن صبر کے اس پہاڑ نے جسے خُلق عظیم عطا ہوا تھا ہر نفرت کا جواب شفقت اور ہر بغض کا جواب رافت سے دیا۔یہاں تک کہ آپ کے خلق عظیم اور مقبول دعاؤں کی طاقت نے جسے ہم قوت قدسیہ کہتے ہیں وہ حیرت ناک انقلاب برپا کیا جس کی نظیر پیش کرنے سے کائنات عاجز ہے۔وہی جان لیوا دشمن جانیں آپ پر نچھاور کرنے لگے اور گالیوں کی جگہ دن رات کے درود نے لے لی۔ماؤں نے اپنے جگر کے لعل پیش کر دیئے کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں پیشتر اس کے کہ آنحضور ﷺ کو کوئی گزند پہنچے۔بیویوں نے خاوندوں کی قربانی دی، بہنوں نے بھائیوں کی قربانی دی اور آپ کی سمت برسائے جانے والے تیر صحابہ نے بڑھ بڑھ کر اپنی چھاتیوں پر لئے۔قَامُوا بِأَقْدَامِ الرَّسُولِ لِغَزُوِهِمُ كَالْعَاشِقِ الْمَشْغُوفِ فِي الْمَيْدَانِ فَدَمُ الرِجَالِ لِصِدْقِهِمْ فِي حُبِّهِمْ تَحْتَ السُّيُوفِ أُرِيقَ كَالْقُرُبَانِ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه : ۵۹۱)