خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 97
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 97 نی کرنے کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء وہ حصول کے قدموں میں میدان کارزار میں ایک عاشق صادق کی طرح ڈٹ گئے اور ان کے خون محبت کی راہ میں ثابت قدمی کی وجہ سے تلواروں کی دھاروں کے نیچے قربانیوں کی صلى الله طرح بہائے گئے۔کبھی کسی قوم کو کسی نبی نے اس درجہ تبدیل نہیں کیا جیسا آنحضور ﷺ نے اپنی قوم کو کیا اور کبھی کسی قوم نے اپنی جہالت کا ایسا دردناک فدیہ ادا نہیں کیا جس طرح آنحضور ﷺ کی قوم نے ادا کیا۔اللهم صل علی محمد و علی آل محمد حضور ﷺ کی قوت قدسیہ نے وحشی انسانوں کو انسان اور پھر انسانوں کو مہذب انسان بنانے پر ہی بس نہیں کی اور بغض و کینہ کو عشق و وفا میں تبدیل کرنے پر ہی اکتفانہ فرمائی بلکہ اس حد تک انھیں ہر خلق میں صیقل کیا کہ خدا تعالیٰ کی نظر انتخاب نے انہیں اپنے لئے چن لیا اور حرص و ہوا اور لات ومنات کے بندے عباد الرحمن کہلانے لگے۔حضرت ابو ہریرہ نے جب کسری کے رومال پر تھوکا تھا تو اس خیال سے کہ وہ ابو ہریرہ جو کئی کئی دن کے فاقے سے بے ہوش ہو جایا کرتے تھے آج آنحضور ﷺ کی قدموں کی برکت سے کسری کے رومال پر تھوک رہا ہے۔بے اختیار ان کے منہ سے یہ کلمہ نکل گیا تھا کہ بخ بخ ابو هريرة ! واہ واہ ابو ہریرہ! تیری بھی کیا شان ہے! لیکن حق یہ ہے خدا کی قسم آنحو ص نے اپنے غلاموں کو لقاء اللہ کے جس بلند مقام پر پہنچا دیا تھا اس کے پیش نظر یقیناً وہ رو مال زبان حال سے یہ پکا رہا ہوگا کہ بخ بخ یا کسری ! واہ واہ اے کسری ! تیری بھی آج کیا شان ہے! تیرے رومال پر آج محمد عربی کا ایک دربان تھوک رہا ہے۔جس حالت میں آپ نے عرب کی مٹی کو پایا تھا اسے اس حالت سے کوئی بھی نسبت نہیں ہے جس میں اسے آپ نے چھوڑا چنانچہ اس قلب ماہیت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: صَادَفَتَهُمْ قَوْمًا كَرَوْثٍ ذِلَّةٌ فَجَعَلْتَهُمْ كَسَبِيكَةِ الْعِقْيَانِ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه: ۵۹۱) یعنی تو نے عرب کی قوم کو گوبر کی طرح حقیر و ذلیل پایا اور خالص سونے کی ڈلیوں میں تبدیل کر دیا۔امت محمدیہ کے ان تبدیل شدہ انسانوں کا جو اپنے آقا کی متابعت میں ایک خلق آخر میں تبدیل ہو چکے تھے قرآن کریم ان الفاظ میں ذکر فرماتا ہے: