خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 95
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت صلى 95 95 نبی کرے کی قوت قدسیہ ۶۶۹۱ ء یل ہو گئیں اس کی مثال دنیا کے پردے پر نظر نہیں آتی۔بغض کی آگ میں جلتے ہوئے ایسے دشمن جو بھی بڑھی ہوئی نفرت کی وجہ سے آپ کو دیکھنے تک کے ردا دار نہ تھے آپ کے خلق عظیم کا ایسا کشتہ ہوئے کہ آپ کے قدموں میں جان دینے کو باعث نجات سمجھنے لگے۔پھر ان میں سے بعضوں کا بخت ایسا رسا نکلا کہ واقعی انہیں حضور ﷺ کے قدموں پر سر رکھ کر جان دینے کی سعادت نصیب ہوئی مگر بعض عشاق صرف اسی حسرت میں دنیا سے رخصت ہوئے۔حضرت عمرو بن العاص کے متعلق یہ روایت آتی ہے حضرت ابو شما سہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عمر و بن العاص کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ پر نزع کی حالت طاری تھی۔آپ بہت دیر تک روتے رہے اور اپنے اس چہرے کو دیوار کی طرف پھیر لیا یہ حالت دیکھ کر آپ کے صاحبزادے نے عرض کیا ابا جان! کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو فلاں فلاں بات کی بشارت نہیں دی تھی پھر آپ اتنے غمگین کیوں ہوتے ہیں؟ پھر آپ متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ہمارے لئے بہترین توشه لا اله الا الله محمد رسول اللہ کی شہادت ہے۔اور بے شک میں تین دوروں میں سے گزر رہا ہوں ایک دور وہ تھا جس میں میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مجھ کو کسی شخص سے عداوت نہ تھی اور کوئی چیز میری نظر میں اتنی محبوب نہیں تھی جتنی نعوذ باللہ یہ بات کہ اگر مجھ کو رسول الل پر قدرت اور طاقت حاصل ہو جائے تو میں آپ کو قتل کر دوں اگر میں اس حالت میں مرجاتا تو یقیناً دوزخ والوں میں سے ہوتا۔دوسرا وہ دور تھا جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کا الله خیال میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اپنا الله دایاں ہاتھ پھیلائیے تا کہ میں آپ کی بیعت کروں۔حضور ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلا دیا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔حضور نے فرمایا عمرو کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ایک شرط کرنی چاہتا ہوں۔فرمایا جو چا ہو شرط کرو۔میں نے عرض کیا یا رسول الل! میرے گناہ معاف ہو جائیں۔آپ نے فرمایا عمرو کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام تمام پچھلے گناہوں کو ختم دیتا ہے اور ہجرت اپنے سے پہلے تمام گناہوں کو منہدم کر دیتی ہے اور حج تمام پہلے گناہوں کو معاف کرا دیتا ہے۔پھر میں نے بیعت کی۔اس وقت مجھے رسول اللہ سے زیادہ کسی شخص سے محبت نہیں تھی اور نہ میرے آنکھوں میں آپ سے زیادہ کوئی صاحب جلال تھا۔میں حضور کی شان جلال کی وجہ سے آنکھیں بھر کر آپ کی طرف نہ دیکھ سکتا تھا یہاں تک کہ اگر آج آنحضوں کا حلیہ دریافت کیا جائے تو میں بیان کرنے کی طاقت