خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 94
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 94 نی کرنے کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں لے جاتا ہوں چنانچہ اسے اپنے ساتھ گھر لے گئے اور بیوی سے کہا کہ رسول الل کا مہمان آیا ہے تمہارے پاس کھانے کو کیا ہے؟ اس نے جواب دیا میرے پاس بس اتنا ہی کھانا ہے کہ بچوں کو کھلا سکوں۔انصاری نے کہا بچوں کو کسی چیز کے ساتھ بہلا لو اور جب وہ شام کا کھانا مانگیں تو ان کو سلا دو اور جب ہمارا مہمان آجائے تو چراغ بجھا دو اور اس پر یہ ظاہر کرو کہ ہم بھی کھا رہے ہیں چنانچہ سب بیٹھ گئے اور مہمان تو کھا تارہا اور وہ دونوں منہ کی آوازوں سے یہ ظاہر کرتے رہے کہ گویا وہ بھی کھا رہے ہیں اور اس طرح مہمان کو کھلانے کے بعد بھوک کی حالت میں صلى الله انہوں نے رات گزار دی۔صبح جب وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور نے فرمایا کہ رات مہمان کے ساتھ تم دونوں کے سلوک پر اللہ تعالیٰ بھی آسمان پر چٹخارے لے رہا تھا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ( صحیح بخاری کتاب المناقب باب قول اللہ تعالیٰ و یؤثرون علی ام۔۔) کن وحشیوں کو آپ نے کیا بنا دیا کہ زمین پر بسنے والوں کے خلق کے تبصرے ملاء اعلیٰ میں ہونے لگے اور وہ سفلہ پرست جن کے کردار سے انسانوں کو بھی گھن آجاتی تھی اب ایسے پاک ہوئے فرشتے رشک کی نگاہوں سے ان کو دیکھتے ہوں گے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ قوت قدسیہ کی پہچان کی ایک کسوٹی یہ بھی بیان فرماتا ہے کہ وہ بغض اور نفرت کو شدید محبت میں تبدیل کرنے کی طاقت رکھتی ہے چنانچہ فرمایا: اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيُّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقْهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقْهَا إِلَّا ذُو حَظِّ عَظِيمٍ (تم السجدة :۳۰-۳۲) یعنی حسن کی تلوار سے بدی کا مقابلہ کر اور برائی کا انتقام نیکی سے لے تو اچانک تو کیا دیکھے گا کہ وہ بھی جو تیرا شدید دشمن ہے تیرے دامن محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔لیکن یہ تبدیلی ہرکس و ناقص کے بس کی بات نہیں اس کے لئے خدا کے ایسے مز کی بندوں کی ضرورت ہے جو صبر کی عظیم طاقتیں اپنے اندر رکھتے ہوں اور خدا کے فضل سے انہیں عظیم حصہ ملا ہو۔اس کسوٹی پر پورا اتر تے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی ایک آگ کو ٹھنڈا کیا تھا لیکن بغض اور حسد اور حد سے بڑھی ہوئی عناد کی جتنی آگئیں ہمارے آقا کے معجز نما قدموں سے ٹھنڈی ہو ئیں اور پھر عشق و محبت کے گلزار میں