خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 93 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 93

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 93 نی کرنے کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء جس کے غریب مفلس غلام بھی آج دنیا ئے جو دو کرم کے بادشاہ ہیں۔آؤ اور فیاضی کے نئے رسم و رواج کو دیکھو کہ مفلس و قلاش مزدور اپنی ضرورتوں کو حج کے دوسرے محتاجوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مصروف ہیں۔عرب مہمان نوازی میں ایک بلند مقام پیدا کر چکے تھے اور ان کے اس اعلیٰ خلق کی داستانیں دنیا کے طول و عرض میں مشہور تھیں لیکن یہ مہمان نوازی بھی عموماً سکھ کے دنوں کی اور کھاتے الله پیتے گھروں کی مہمان نوازی تھی اور فخر اور تعلی اور نمود کی ملونی سے ناپاک ہو چکی تھی۔آنحضور ﷺ کی قوت قدسیہ اس پر بھی کار فرما ہوئی اور اسے ایک نئے جلا بخشی۔مہمان نوازی کے بھی نئے اسلوب اور نئے آداب وضع ہوئے اب ایسے مہمان نواز پیدا ہوئے کہ جو بھوک کی شدت کے وقت بھی یعنی اس وقت بھی جبکہ کھانا انسان کو سخت محبوب ہو جاتا ہے محض اللہ تعالیٰ کی محبت کی خاطر اپنا کھانا مہمانوں کو پیش کر دیتے تھے یہاں تک کہ بعض اوقات ان کے بچے محض اس لئے بھو کے سوتے تھے کہ ایک مہمان کا پیٹ بھر جائے اور پھر وہ خلق کو ایسا چھپاتے اور دنیا کی نظر سے دور کھتے تھے کہ اگر عرش کا خدا ان کی اس عجیب حالت کو ظاہر نہ فرماتا تو شاید کبھی کسی کو اخلاق کے ان نادر نمونوں کی خبر نہ ہوتی۔لیکن خدا تعالیٰ کے تقدیر نے نہ چاہا کہ یہ انمول موتی دنیا کی نظر سے اوجھل رہیں اور آنحضوں پر یہ وحی فرمائی: وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِيْنًا وَيَتِيمَا وَ أَسِيرًا (الدھر: ٩) صلى الله کہ اے میرے بندے! تیرے غلاموں میں تو ایسے پیدا ہو چکے ہیں کہ وہ کھانا تیموں اور مسکینوں اور غریبوں کو کھلاتے ہیں اس حال میں بھی کہ بھوک کی شدت سے خود کھانا انہیں عزیز ہورہا ہوتا ہے۔ایک مرتبہ آنحضور ﷺ کے پاس ایک مہمان آیا اس کے کھانے کے لئے حضور ﷺ نے باری باری تمام ازواج مطہرات سے پتا کروایا لیکن سب نے یہی جواب دیا کہ اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ ہمارے پاس تو پانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے اس پر حضور نے اعلان فرمایا کہ کوئی ہے جو میرے اس مہمان کو اپنے ساتھ لے جائے اور ایک انصاری کھڑے