خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 92 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 92

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 92 92 نی کر ے کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء اوڑھ لی اب وہی فیاض جو کبھی اپنی عطا کے جو ہر دکھانے کے لئے دن کی روشنی اور دیکھنے والی آنکھوں کا انتظار کیا کرتے تھے انسانی نظروں سے اوجھل رات کی تاریکی میں چھپ چھپ کر نکلنے لگے اور اکثر لینے والا ہاتھ اس امر سے نا آشنا ر ہنے لگا کہ دینے والا ہاتھ کون تھا یا کس کا تھا؟ فیاضی کی ادا کچھ ایسی بدلی کہ معطی کے لئے اس کے احسان کا شکریہ باعث مسرت بننے کی بجائے موجب اذیت ہو گیا اور خود اللہ تعالیٰ ان فیاضوں کے متعلق گواہی دیتا ہے کہ شکریہ سے ان کے دل تنگ ہوتے تھے اور بے اختیار وہ یہ کہا کرتے تھے: إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (الدھر: ۱۰) نادانو ! ہم تو تمہیں خدا کے چہرے کی خاطر کھانا کھلاتے ہیں۔تم سے کوئی شکر یہ اور کوئی عطا نہیں چاہتے۔آنحضور ﷺ کی قوت قدسیہ نے جو فیاض پیدا کئے گویا وہ ایک نئی مخلوق تھے جن سے فیاضان گزشتہ کو کوئی نسبت یہ تھی۔آپ سے قبل سخاوت امیروں کے گھر کی باندی سمجھی جاتی تھی۔سخی بس وہ ہی ہو سکتا تھا جس کے ظروف زیادہ اور دیگیں بڑی ہوں اور جس کے مویشیوں سے وادیاں بھر جاتی ہوں۔آپ نے یہ سب تصور باطل کر دکھائے اور اپنے غلاموں کو کچھ ایسی دل کی غنا بخشی کہ ان کے امیر ہی تھی نہ رہے بلکہ غریب بھی تھی بلکہ سیخوں کے سرتاج بن گئے۔احادیث سے پتا چلتا ہے کہ آنحضوﷺ نے جو دو کرم کا ایسا ولولہ ان کے دلوں میں پیدا کر دیا کہ بسا اوقات مفلس اور بے زرصحابہ اس نیت کے ساتھ رسی اور کلہاڑا لے کر جنگل میں نکل جاتے تھے کہ لکڑیاں بیچ کر جو قیمت ہاتھ آئے وہ خدا کی راہ میں خرچ کریں۔وہ خود ضرورت مند ہونے کے باوجود دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر اس درجہ ترجیح دینے لگے کہ آسمان سے کہ خدا تعالیٰ کی تحسین و کرم کی نظریں ان پر پڑنے لگیں اور اپنے محمد کے غلاموں کی اس بے مثل کردار کا ذکر اس نے ان الفاظ میں فرمایاؤ يُؤْثِرُونَ عَلَى اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (الحشر : (۰) یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے فیاضوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک اعلان عام تھا کہ اے کریمان عالم جو جود وسخا کے دعوے دار ہو آؤ اور میرے محل کے غلاموں سے فیاضی کے سبق سیکھو، اس کے چاکروں سے فیاضی کے سبق سیکھو