خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 48
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 48 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟۳۶۹۱ء لیکن جوں جوں الہی راہنمائی کے نتیجہ میں اسے حقیقی معرفت نصیب ہوتی جاتی ہے بدیوں کی بدزیبی اور نیکیوں کا حسن اس پر ظاہر ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب یہ پاکیزہ فطرت بے اختیار پکار اٹھتی ہے ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اسے دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ یہ تمہیں سیراب کرے گا یہ زندگی کا چشمہ ہے۔پس گناہ کے متعلق عیسائی نظریات کو پڑھنے کے بعد یہ افسوس ناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ کفارہ کے جواز کو ثابت کرنے کے لئے تمام عیسائی مفکرین کی نظری اور فکری کوششیں اسی الجھن میں ضائع ہو گئیں کہ کسی طرح گناہ کی ایسی تعریف کی جائے کہ ہر انسان میں بلا استثناء اس کا وجود ثابت کیا جا سکے۔اس موضوع پر سترہ سو سال میں عیسائی اہل قلم نے جتنے صفحے کالے کئے ہیں اور جس قدر دیئے جلائے ہیں اگر وہ اس کی بجائے اپنا قیمتی وقت حقیقت کفارہ پر غیر جانبدارانہ سوچ و بچار میں صرف کرتے تو بلا شبہ وہ نظر یہ کفارہ کی تاریک بھول بھلیوں سے کبھی کے آزاد ہو چکے ہوتے۔اسلامی اصول کی فلاسفی کے چند صفحات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس موضوع پر جو روشنی ڈالی ہے عیسائی مفکرین کی فکر ونظر کی سترہ صدیاں بھی اس کا عشر عشیر نہ پاسکیں۔یہ محض اس لئے کہ انہوں نے اپنے فکر کو آزاد نہیں چھوڑا بلکہ پیش نظر ہمیشہ یہ مخصوص مقصد رہا کہ کسی طرح نظریہ کفارہ کے جواز کو ثابت کیا جا سکے۔پس اس غلط نظریہ کے نتیجہ میں ان کے بڑے بڑے سور ما فلسفیوں نے بھی ایسی ایسی طفلانہ ٹھوکریں کھائی ہیں کہ عقل انگشت بدنداں رہ جاتی ہیں۔Muller کا یہ نظریہ کہ تمام انسان اس لئے گناہ گار ہیں کہ صرف گناہ گار روحوں کو ہی سزا کے طور پر انسان بنایا جاتا ہے۔ان مجنونانہ ٹھوکروں کی ایک ادنی سی مثال ہے۔خدا کا عدل اور بخشش نظر یہ کفارہ کی دوسری کڑی یہ ہے کہ چونکہ خدا عادل ہے اس لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ بغیر سزا کے کسی مجرم کے گناہ معاف کر دے۔اس میں بھی دو بے بنیاد دعوے کئے گئے ہیں۔اول یہ کہ خدا ان معنوں میں عادل ہے جن معنوں میں ایک قوانین ملکی کا پابند منصف یا حج عادل ہوا کرتا ہے۔دوئم یہ