خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 49 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 49

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 49 99 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟۳۶۹۱ء کہ ایک منصف کو یہ اختیار ہی نہیں کہ وہ کسی جرم کے گناہ کو بخش دے خواہ گناہ کیسے ہی حالات میں کیوں نہ کیا گیا ہو۔عیسائیت جس صفت عدل کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتی ہے وہ بھی ایک لا یعنی اور لغوصفت ہے اور خدا تعالیٰ کی مقدس ذات کو داغ دار کرنے والی ہے۔بڑا ہی منحوس ہے ایک ایسے بے اختیار عادل کا تصور جو معاف کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو اور بڑا ہی عجیب ہے یہ دعویٰ کہ خدا تعالیٰ ایک ایسا ہی بے اختیار عادل ہے۔پھر حیرت ہے کہ عیسائیت اپنے متبعین سے تو یہ توقع رکھتی ہے کہ اگر ان کے ایک گال پر طمانچہ مارا جائے تو وہ نہ صرف معاف کردیں بلکہ دوسرا گال بھی اس مارنے والے کے سامنے پیش کر دیں لیکن اس صورت میں بھی ان کی صفت عدل قطعا متاثر نہیں ہوتی لیکن ان کے خدا کا عدل ایسا نازک ہے کہ خفیف سے خفیف بخشش کے پھولوں کی مار سے بھی چکنا چور ہو جاتا ہے۔جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ عدل ایک پسندیدہ چیز ہے اس سے کوئی انکار نہیں مگر سوال صرف یہ ہے کہ کیا عدل اور مغفرت ایک وقت میں اکٹھے رہ سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر تو یہ متناقض قدریں ہوں اور ایک وقت میں یکجا نہ ہوسکیں تو پھر تولا ز ماہم مجبور ہوں گے کہ یا تو خدا تعالیٰ کو بخشش کا نا اہل تسلیم کر لیں یا اس کے مزعومہ عدل کو کالعدم سمجھیں لیکن دونوں صورتوں میں اس کی پاک ذات پر ایک بدنما داغ لگتا ہے۔اس مشکل چناؤ کی ضرورت ہی دراصل پیش نہیں آتی کیونکہ عدل اور بخشش در حقیقت ہرگز دو متناقض صفات نہیں ہیں۔عدل کا فقدان صرف اور صرف اسی وقت عیب بنتا ہے جب کہ اس کی جگہ ظلم لے رہا ہو اس کے بغیر عدل کا فقدان کوئی عیب نہیں۔مثلاً اگر ایک آقا اپنے مال کے نقصان کے بدلہ میں اپنے غلام کو سزا نہیں دیتا تو کوئی ظالم انسان بھی ایسے نیک دل شخص کو ظالم یا غیر عادل قرار نہیں دے سکتا۔کاش اگر عیسائی مفکرین اسی راز کو سمجھ جاتے تو کبھی ظلمات کے جنگلوں میں اس قدر سر گرداں نہ ہونا پڑتا۔خدا تعالیٰ کو عقل صرف ان معنوں میں عادل تسلیم کر سکتی ہے کہ اس سے ظلم کے الزام کی بریت کی جائے اس سے بڑھ کر عدل کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔لیکن عیسائی نظریہ کفارہ متناقض دعوؤں کا ایک حیرت انگیز شاہکار ہے۔ایک طرف تو خدا تعالیٰ کو عادل اس لئے تسلیم کرواتا ہے کہ اگر عادل نہ مانا جائے تو ظالم ماننا پڑے گا اور دوسری طرف اس بے ہودگی پر بھی مصر ہے کہ چونکہ وہ عادل ہے اس لئے وہ بخش نہیں سکتا۔دوسرے لفظوں