خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 47

تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 47 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟۳۶۹۱ء انسانی فطرت سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔میلان صرف حصول لذت کی طرف ہے اور جوں جوں مذاق سلیم ہوتا چلا جاتا ہے لذات گناہوں کی حدود سے نکل کر نیکیوں کی عملداری میں داخل ہونے لگتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب کہ ایک مادہ پرست عبادت کے تصور سے بھی گھبراتا ہے ایک عارف ، عابد رات کی تنہائیوں میں اٹھ کر اپنے معبود کے حضور سجدہ ریز ہو جاتا ہے اور اس پر مشقت عبادت میں بھی اسے ایسی لذت محسوس ہوتی ہے کہ کسی دنیا دار انسان کو دنیا کی اعلیٰ ترین لذات میں بھی اس کا عشر عشیر نصیب نہیں ہوتا۔فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَإِلى رَبِّكَ فَارْغَبُ (الم نشرح: ۹۸) میں آنحضرت ﷺ کے اسی میلان طبعی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔چنانچہ فَارْغَبُ کا لفظ یہاں خاص طور پر قابل غور ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت کی رغبت روز مرہ کے کام کاج کی طرف نہیں بلکہ نیم شمی عبادات کی طرف تھی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک عبارت بھی اس ضمن میں خاص طور پر قابل ذکر ہے۔آپ فرماتے ہیں: ”ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو۔کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں کس وف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں، کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ: ۲۱ - ۲۲) مگر افسوس کہ عیسائی مفکرین کے کان اس خوشخبری کو سننے سے محروم رہ گئے اور ان کی آنکھیں اس بصیرت سے محروم ہو گئیں کہ فطرت انسانی میں ہر گز کسی گناہ کی طرف میلان نہیں پایا جاتا۔ہاں حصول لذت کی ایک بے قرار تڑپتی ہوئی تمنا ضر ور فطرت انسانی کا جزو ہے اور عدم معرفت کی بناء پر یہ تمنا بسا اوقات سفلی چیزوں اور گناہ کی گندگی میں اس لذت کے حصول کی کوشش کرتی ہے۔