خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 46
تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت طبعا گناہ گار ہونے کا نظریہ 46 46 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟ ۳۶۹۱ء ایک نظریہ یہ ہے کہ انسان طبعا گناہ گار ہے۔اس میں دو سوال اٹھتے ہیں : اول کیا واقعی اگر انسان کی فطرت میں گناہ کا میلان پایا جاتا ہے؟ اور دوئم واقعی انسانی فطرت اس گناہ کے میلان سے مغلوب بھی ہو جاتی ہے کہ نہیں ؟ سوال دوئم کا جواب یہ ہے کہ اگر چہ یہ درست ہے کہ فطرت انسانی میں لذات کی طرف رغبت رکھی گئی ہے اور یہ بھی درست ہے کہ بعض صورتوں میں اسی طبعی رغبت سے مغلوب ہو جانا گناہ کی تعریف میں داخل ہو جاتا ہے مگر یہ تسلیم کرنے کے باوجود بھی انسان کا گناہ گار ہونا ثابت نہیں ہوسکتا حتی کہ اگر یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ ہر انسان کو تمام یا بعض گناہوں کی طرف ایک جیسی رغبت ہوتی ہے تو بھی جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ فطرت انسانی میں ان رغبتوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت موجود نہیں اور ضروری ہے کہ ہر انسان ان کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اس وقت تک اس دلیل کے ذریعہ ہر انسان کا گناہ گار ہونا قطعاً ثابت نہیں ہوسکتا۔نیکی اور بدی کی جنگ تو اکثر انسانوں کے سینوں میں جاری رہتی ہے مگر محض اس جنگ کے نتیجہ میں کسی کو گناہ گار قرار دے دینا ایک احمقانہ اور غیر عادلانہ فعل ہوگا۔جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ فطرت انسانی میں اس میلان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے لیکن جب ہم اس سوال اول کو لیتے ہیں تو سرے سے یہ دعوی ہی غلط نظر آتا ہے کہ فطرت انسانی میں گناہ کا میلان پایا جاتا ہے کیونکہ روز مرہ کا مشاہدہ ہمیں بتلاتا ہے کہ رغبت اور کراہت نسبتی چیزیں ہیں۔عین ممکن ہے بلکہ قرین قیاس ہے کہ جہاں ایک گناہ گار انسان مثلاً چوری کے حرام مال کے لئے شدید کشش محسوس کرتا ہے وہاں ایک خدا رسیدہ انسان سخت ضرورت کے باوجود بھی اس سے اسی قدر کراہت رکھتا ہے اور یہی حال باقی تمام بدیوں کا ہے۔ایک انسان ادنیٰ سے غور سے بھی اس حقیقت کو پاسکتا ہے کہ جن کیفیات کو طبعی میلان کہا جاتا ہے وہ انسان کے ماحول، اس کے مقام، اس کی ذاتی دلچسپیوں، اس کے تعلق باللہ یا خدا سے دوری کے حالات کے زیر اثر بدلتی رہتی ہیں۔ان تمام میلانات طبعی کا مرکزی محرک حصول لذت کی تمنا ہے اور لذت کی تعریف ہر انسان کے ذہنی قلبی اور روحانی معیار کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔پس یہ عمومی دعوی کہ فطرت انسانی میں گناہ کا میلان پایا جاتا ہے ایسا دعویٰ کرنے والوں کی