خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 45
تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 45 45 کیا نجات کفارہ پر موقوف ہے؟۳۶۹۱ء پولوس کے پیش کردہ وراثتی گناہ کے نظریہ پر جو عقلی اعتراضات وارد ہوتے ہیں ان سے بچنے کے لئے عیسائی مفکرین نے اس نظریئے کو ایک اور رنگ میں بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔خصوصاً اس زمانہ میں علم وراثت حیوانی کے انکشافات کے بعد کم ہی ایسے تعلیم یافتہ عیسائی ہوں گے جو وراثتی گناہ کے نظریہ کے قائل رہے ہوں۔انہی اعتراضات کے پیش نظر آرچ بشپ آف کیٹری اینڈ یارک (Arch Bishop of Canterbury and York) نے ۱۹۲۲ء میں ایک کمیشن مقرر کیا تھا جس کا کام یہ تھا کہ چرچ آف انگلینڈ کے جملہ عقائد کی چھان بین کر کے انہیں نئے علوم کی روشنی میں ڈھال کر پیش کرے۔یہ رپورٹ بھی اگر چہ تسلیم کرتی ہے کہ ہر انسان بہر حال گناہ گار ہے لیکن اس کی تو جیہات کے طور پر ایک معقول تو جیہہ پیش کرتی ہے۔وہ یہ ہے کہ انسان اپنی طبیعت کے لحاظ سے سوشل Social) ہے، ملنے جلنے والا جانور ہے اس لئے جب آدم کے گناہ کے ذریعہ ایک دفعہ گناہ انسانی سوسائٹی میں داخل ہو گیا تو اس سوسائٹی کے تمام ممبران لازماً اس سے متاثر ہوتے چلے جاتے ہیں۔یہ نظریہ اس مسئلہ میں دوسرے عیسائی نظریوں کی نسبت سب سے زیادہ معقول ہے لیکن جہاں تک کفارہ کی ضرورت کو ثابت کرنے کا سوال ہے یہ ایسا کرنے میں بری طرح ناکام رہتا ہے۔جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں باوجود اپنی ذات میں سخت نا معقول ہونے کے پولوس Saint) (Paul کا نظریہ ہی وہ واحد نظریہ ہے جس کے صحیح ثابت ہونے کی صورت میں ضرورت کفارہ ثابت ہوسکتی ہے۔اس کے برعکس وہ تمام عیسائی نظریات جو عقل کے قریب تر ہیں جوں جوں معقول صورت اختیار کرتے چلے جاتے ہیں ضرورت کفارہ کو ثابت کرنے سے اسی حد تک عاری ہوتے چلے جاتے ہیں۔سوسائٹی کے ذریعہ نسل انسانی میں گناہ کا میلان باقی رہنے کے نظریہ میں یہ کمزوری ہے کہ اس امکان کی کوئی پیش بندی نہیں کی گئی کہ اگر ایک انسان کو سوسائٹی کے اثرات سے الگ محض کتب مقدسہ کی تعلیم کے مطابق پروان چڑھایا جائے تو کیوں اسے معصوم قرار نہ دیا جائے؟ اس کے علاوہ اس امر کا بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ آدم کے گناہ سے جو سوسائٹی ملوث ہوئی تھی وہ سوسائٹی دنیا کی ہر دوسری سوسائٹی پر اثر انداز ہو چکی ہے۔