خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 429 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 429

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 429 غزوات النبی میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء آپ کا یہ فرمانا کہ میں خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور اس کی مرضی کے سوا کچھ نہ کروں گا آپ کی صداقت کی عظیم الشان دلیل ہے۔صحابہ کے سخت زخمی دل اور پُر ہیجان جذبات ایک طرف تھے جو آنحضور ہی کی صداقت کو ثابت کرنے کیلئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے کیلئے مچل رہے تھے اور دوسری طرف مرضی مولی تھی جو حج بیت اللہ کے قصد کے بعد ہر قسم کے جنگ و جدال سے روکے ہوئے تھی۔پس آپ نے اس امر کی ذرہ بھی پرواہ نہ کی کہ دشمن آپ کی بظاہر نا کام واپسی پر کیا کیا پھبتیاں نہ کسے گا۔آپ اس امر کو بھی خاطر میں نہ لائے کہ صحابہ کے دل پر کیا بیتے گی اور خفت سے اندر ہی اندر وہ کس طرح کٹ رہے ہوں گے۔آپ اول و آخر اپنے مولیٰ کے بندے اور اسی کے رسول تھے اور خدا کی مرضی کے مقابل پر کل مخلوق کی مرضی بھی آپ کے سامنے کوئی حقیقت نہ رکھتی تھی۔پھر آپ کا یہ فرمانا بھی کتنا معنی خیز اور کتنا لرزا دینے والا اعلان تھا کہ میں اپنے مولیٰ ہی سے حفاظت کی امید رکھتا ہوں۔گویا سب پر برملا یہ واضح فرما دینا چاہتے تھے کہ ہر چند کہ تم لوگوں سے وفا کی امید ہے لیکن اے صحابہ کے گروہ! میرا سہارا تم نہیں ہو بلکہ صرف اور صرف میرا خدا ہے۔یہ اعلان تھا اس اٹل حقیقت کا کہ آپ نے جس خدا کا ساتھ اس شدید آزمائش کے وقت میں بھی نہیں چھوڑ اوہ ہر گز آپ کا ساتھ کسی مشکل کے وقت بھی نہیں چھوڑے گا۔قربانیاں دینے اور سر منڈانے کا ارشاد معاہدہ صلح لکھا گیا اور کفار کا وفد فتح کا گمان لئے ہوئے اس حال میں کہ دل میں شہنائیاں بج رہی تھیں واپس لوٹ گیا اور صحابہ کا یہ عالم کہ ایک فرضی شکست کے احساس سے نڈھال غم واندوہ میں ڈوبے ہوئے پڑے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں کیسی عظیم اور روشن اور کھلی کھلی فتح سے ہمکنار فرمایا ہے۔اس وقت آنحضوں نے بآواز بلند یہ اعلان فرمایا کہ اٹھو اور قربانیاں دو اور سر منڈواؤ اور بال تر شواؤ۔یقین نہیں آتا مگر یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اس مقدس آواز کوسن کر ایک صحابی نے بھی حرکت نہ کی اور کسی بدن میں جنبش نہ آئی۔آنحضور نے دوسری بار پھر اسی ارشاد کی تکرار فرمائی لیکن وہی پہلے کا سا سکوت طاری رہا پھر تیسری دفعہ آنحضور ﷺ نے بلند تر آواز میں وہی ارشادد ہرایا کہ اٹھو اور قربانیاں دو اور سرمنڈوا ؤ اور بال تر شوا ؤ لیکن سرتا پا غم کی تصویر بنے ہوئے صحابہ میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔