خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 430
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 430 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوه حد بی ) ۱۸۹۱ء اللہ ہی جانتا ہے کہ آنحضور پر وہ گھڑی کیسی کڑی ہوگی۔تاریخ ہمیں صرف یہ بتاتی ہے کہ آنحضور خیمہ میں داخل ہوئے اور ام سلمہ سے مخاطب ہو کر بڑے درد کے ساتھ اس انہونی بات کا تذکرہ فرمایا۔اس پر ام سلمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ غم نہ کریں صحابہ نا فرمان نہیں ہیں بلکہ شدت غم سے مغلوب ہو چکے ہیں پس آپ باہر تشریف لے جائیں اور قربانی کریں پھر دیکھیں کہ صحابہ آپ کو دیکھ کر کس طرح پیروی کرتے ہیں۔چنانچہ آنحضور نے اس مشورہ کو قبول فرماتے ہوئے ایسا ہی کیا۔آنحضور کو تن تنہا قربانی کرتا ہوا دیکھ کر صحابہ پر ایک بجلی سی گری گویا تن مردہ میں جان پڑ گئی۔وہ میدان خفتگان ایک میدان حشر میں تبدیل ہو گیا جیسے صور پھونکا جا چکا ہو۔ہر طرف بھگدڑسی مچ گئی اور صحابہ بے محابا قربانیوں کی طرف دوڑے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے لگے اور اچانک اس پر سکون اور جامد و ساقط میدان میں ہر طرف ایک شور قیامت برپا ہو گیا۔ذبح ہوتی ہوئی قربانیوں کے شور اور صحابہ کی تسبیح وتحمید نے فضا میں ایک غلغلہ سا مچا دیا۔اس واقعہ کے بارہ میں صحابہ روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے سر اس تیزی اور جوش کے ساتھ مونڈنے لگے کہ احتمال تھا کہ کہیں گردنیں ہی نہ کائی جائیں۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحه: ۹۲، ۹۳- تاریخ طبری جلد ۲ صفحه: ۱۲۴) یہ سب کچھ ہوا اور خوب خوب تلافی مافات ہوئی لیکن بایں ہمہ آج تک وہ تو قف اور تامل دلوں میں کھٹکتا ہے جو صحابہ نے آنحضور کے ارشاد کی تعمیل میں دکھایا اور تین مرتبہ کے بنکر ارفرمان رسول کے باوجود اس پر عملدرآمد سے کیسے قاصر رہے۔پر چودہ سو برس ہونے کو آئے لیکن آج بھی جب انسان اس واقعہ کو پڑھتا ہے تو عقل گنگ ہو جاتی ہے اور سوچ کی طاقتیں ماؤف ہونے لگتی ہیں کہ چند ثانیوں کیلئے ہی سہی لیکن یہ ممکن کیسے ہوا صلى الله کہ اطاعت کے پہلے وہ جان نثار صحابہ جو محمدمصطفی میت کے خفیف اشاروں پر تن من دھن کی بازی لگا دیتے تھے اور مال وزرلٹا دیتے تھے اس جان و دل سے پیارے آقا کی آواز سن کر بھی ان سنی کیسے کر رہے تھے؟ وہ لوگ تو آسمان اسلام کے روشن ستارے تھے جن کی روشنی ایک عالم کیلئے ہدایت کا موجب بننے والی تھی۔ان میں ولی بھی تھے اور ولیوں کے سرتاج علی بھی۔ابوبکر و عثمان اور عمر بھی تھے۔ان میں صالح بھی تھے اور شہید بھی اور صدیق بھی۔انعام یافتہ بندگان خدا کا وہ ایک برگزیدہ گر وہ تھا جن کا مثل دنیا نے کبھی نہیں دیکھا تھا پھر ان سب سے یہ کیا ظاہر ہوا کہ آج تک عقل حیران