خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 428
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 428 غزوات النبی میں خلق عظیم ( غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء سعادت جانتے تھے آج غم و حزن اور احساس خفت نے ان کو اس حال تک پہنچا دیا کہ نہیں سوچتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔لیکن آنحضوں نے عمرہ سے کوئی تعرض نہ فرمایا ہاں درد میں ڈوبی ہوئی آواز میں صرف اتنا کہا کہ عمر میں یقینا اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور ہر گز اس کے منشاء کی خلاف ورزی نہیں کروں گا اور میں اس سے امید رکھتا ہوں کہ وہی میری حفاظت کرے گا۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحه : ۹۲ ۹۳ - تاریخ طبری جلد ۲ صفحه : ۱۲۲) اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دردوکرب کی وہ شیخ جو سوال بن کر حضرت عمر کے دل سے نکلی دوسرے بہت سے سینوں میں بھی کھٹی ہوئی تھی۔اگر چہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جن جذبات کو عمر نے زبان دی تھی وہ صرف ایک عمر ہی کے جذبات نہیں بلکہ اوروں کے بھی تھے اور سینکڑوں سینوں میں اسی قسم کے خیالات ہیجان بپا کئے ہوئے تھے لیکن حضرت عمر نے جو ان کے اظہار کی جرات کی یہ ایک ایسی چوک ہو گئی کہ بعد ازاں عمر بھر حضرت عمرؓ اس سے پشیمان رہے۔بہت روزے رکھے بہت عبادتیں کیں۔بہت صدقات دیئے اور استغفار کرتے ہوئے سجدہ گاہوں کو تر کیا لیکن پشیمانی کی پیاس نہ بجھی۔حدیبیہ کا اضطراب تو عارضی تھا جسے بہت جلد آسمان سے نازل ہونے والی رحمتوں نے طمانیت میں بدل دیا مگر وہ اضطراب جو اس بے صبری کے سوال نے عمر کے دل میں پیدا کیا وہ ایک دائمی اضطراب بن گیا جس نے کبھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑا۔ہمیشہ حسرت سے یہی کہتے رہے کہ کاش میں نے آنحضور سے وہ سوال نہ کیا ہوتا۔( تاریخ طبری جلد ۲ صفحہ: ۱۲۴) بارہا میں یہ سوچتا ہوں کہ بستر مرگ پر آخری سانسوں میں حضرت عمرؓ جب لَالِی وَلَا عَلَى کا ورد کر رہے تھے کہ اے خدا میں تجھ سے اپنی نیکیوں کا بدلہ نہیں مانگتا تو میری خطائیں معاف کر دے تو سب خطاؤں سے بڑھ کر اس ایک خطا کا تصور آپ کو بے چین کئے ہوئے ہوگا جو میدان حدیبیہ میں آپ سے سرزد ہوئی۔صلح نامہ کی تحریر کے دوران صحابہ کی بے چینی اور دل شکستگی کا عالم دیکھ کر آنحضور کے دل کی کیفیت کا راز آپ کے آسمانی آقا اور بے حد محبت کرنے والے رفیق اعلیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا لیکن ان تین سادہ سے جملوں میں جو عمر کے جواب میں آپ کی زبان مبارک سے نکلے آپ نے غور کرنے والوں کیلئے بہت کچھ فرما دیا۔۔