خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 427 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 427

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 427 غزوات النبی میں خلق عظیم ( غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء کوئی تعجب کی بات نہیں کہ آپ نے اپنا نام لکھنا سیکھ لیا ہو۔لیکن یہ بحث ایک ثانوی حیثیت رکھتی ہے یہاں صرف یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ شرائط صلح تو پہلے ہی مسلمانوں کو سخت خفت آمیز دکھائی دے رہی تھیں اوپر سے سہیل بن عمرو کی بدتمیزی اور گستاخی نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔یہ نظارہ ان کی بے قراری کو اور بھی بڑھا رہا تھا کہ آنحضور سہیل کی سختی کا جواب سختی سے نہیں دیتے بلکہ اس کی ہر ناواجب حرکت کو برداشت فرمارہے ہیں اور ہر نا حق مطالبے کو بھی قبول فرماتے چلے جارہے ہیں۔آپ حق پر ہیں اس قسم کے واقعات نے حضرت عمر فاروق کے زخموں پر تو ایسی نمک پاشی کی کہ تڑپ اٹھے اور مزید صبر کا یارا نہ رہا۔پس حضرت ابوبکر صدیق کو ایک طرف لے جا کر ان سے پوچھا کہ بتائیں کیا ہم حق پر نہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم حق پر ہیں۔پھر پوچھا کہ بتائیں کیا محمد مصطفی اللہ کے رسول الله نہیں؟ انہوں نے کہا ہاں محمد رسول اللہ بے شک اللہ کے رسول ہیں۔تب حضرت عمرؓ نے بے قرار ہو کر کہا کہ بتائیں پھر ہم اس کے باوجود یہ ذلتیں کیوں برداشت کر رہے ہیں؟ حضرت ابوبکر نے سمجھایا اور فرمایا: یقیناً آپ خدا کے رسول ہیں اور آپ کا رب آپ کو ہر گز نہیں چھوڑے گا وہی آپ کا مددگار ہوگا پس آپ کی رکاب کو مضبوطی سے تھامے 66 رکھو۔خدا کی قسم آپ حق پر ہیں۔“ مگر عمر بن خطاب کو قرار نصیب نہ ہوا اور اس امر سے باز نہ رہ سکے کہ اس قسم کی گفتگو خود آنحضرت ﷺ سے بھی کریں۔(السیرة الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحه : ۸۱،۸۰) صل الله ہر چند کہ وہ وقت آنحو پر بہت بھاری تھا اور صحابہ کے غم وحزن اور ان کی غیر متوقع طرز عمل سے آپ کو بہت دکھ پہنچا لیکن آپ نے انتہائی صبر کا مظاہرہ کیا اور عفو اور درگذر سے کام لیا، حضرت عمرؓ کو کوئی سرزنش نہ فرمائی ، تعجب کا اظہار تک نہ کیا کہ اے عمر مجھ سے یہ تو کہہ رہا ہے! آپ کے دل کی کیفیت آپ کے آسمانی رازداں کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا لیکن افسوس کے ساتھ تعجب تو فرماتے ہوں گے کہ وہ عمائدین جو دست و بازو تھے۔نہیں نہیں ! وہ غلام جو پاپوش اٹھانے کو بھی