خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 404 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 404

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت نعیم کا اصل کردار 404 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۰۸۹۱ء پس نعیم نے ان واقعات کے سلسلہ میں جو اصل کردار ادا کیا وہ صرف اتنا تھا کہ بعض حالات سے اندازہ کر کے ابو سفیان کو یہ رپورٹ پہنچائی کہ بنو قریظہ نے کفار مکہ کے ساتھ غداری کا فیصلہ کرلیا ہے۔بنو قریظہ کا عملاً جنگ میں شریک نہ ہونے کا اصل سبب پس بنو قریظہ کا مسلمانوں سے بدعہدی کے باوجود کفار کے ساتھ آخری حملہ میں شریک نہ ہونے کی اصل وجہ جو بھی تھی آنحضور کے کسی ایجنٹ کا بہر حال اس میں کوئی دخل نہ تھا جیسا کہ گزر چکا ہے کہ بنو قریظہ نے حی بن اخطب سے پہلی ہی ملاقات میں یہ طے کر لیا تھا کہ ہم تمہارے ساتھ شامل ہوکر مسلمانوں کے عقب سے حملہ تو کریں گے لیکن اس بات کی ضمانت کے طور پر کہ تم ہمیں محمد کے رحم پر چھوڑ کر بھاگ نہ جاؤ گے اپنے ستر بڑے بڑے آدمی ہمارے سپر د کر دو۔جب آنحضرت کو اس عہد شکنی کا علم ہوا تو ایک وفد یہود کو سمجھانے کی غرض سے سعد بن معاذ کی سرکردگی صلى الله میں بھیجا۔جس میں سعد بن عبادہ ، عبداللہ بن رواحہ کے ایک بھائی اور خوات بن جبیر شامل تھے۔شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۴۹۹) حضرت سعد بن معاذ جو قبیلہ اوس کے سردار تھے اور اسلام سے پہلے یہودیوں سے ان کے گہرے دوستانہ مراسم تھے ان کے بہت سمجھانے کے باوجود یہود نے ایک نہ مانی بلکہ سخت گستاخانہ رویہ اختیار کیا اور صاف جواب دے دیا کہ ہمارا تمہارا معاہدہ ٹوٹ گیا ہے اور ان کے سامنے معاہدہ نامہ منگوا کر چاک کر دیا۔( شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۴۹۹ ، ۵۰۰ - السيرة الحلبیہ جلد دوم نصف آخر صفحه : ۳۶۸، ۳۶۹) اس وفد نے واپس آکر حضور کی ہدایت کے پیش نظر اس بات کو کسی پر ظاہر نہ کیا بلکہ بصیغۂ راز آپ کو اپنے مشن کی ناکامی کی اطلاع دی۔آنحو یا اس پر یہ خبر بہت شاق گزری کیونکہ یہود کی یہ بد عہدی مسلمانوں کو تکلیف میں ڈال سکتی تھی۔آپ یہ خبر سن کر اپنا چہرہ ڈھانپ کر بڑے درد و کرب کے عالم میں لوگوں سے الگ ہو کر اپنے خیمہ میں چلے گئے۔کچھ وقت بعد جو یقینا اللہ تعالیٰ کے حضور