خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 405 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 405

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 405 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ۰۸۹۱ء گریہ وزاری میں صرف ہوا ہو گا آپ باہر تشریف لائے اور بلند آواز سے نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے اور فرمایا مسلمانو ! خوش ہو جاؤ! آنحضور ﷺ کے نعروں کے جواب میں تمام لشکر اسلام نے نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے اور ان کے حوصلے فرش سے عرش تک بلند ہو گئے۔واقدی کے بیان کے مطابق اس وقت نعیم بن مسعود ابوسفیان کے ایجنٹ کے طور پر مسلمانوں میں موجود تھا پس یہ ہرگز بعید از قیاس نہیں کہ نعیم نے ان نعرہ ہائے تکبیر سے یہ اندازہ لگایا ہو کہ یقیناً یہود مسلمانوں کی بات مان گئے ہیں اور کفار سے پھر گئے ہیں۔ورنہ مسلمانوں کے لئے اتنی بڑی خوشی کی کوئی بات نہ تھی اور فوری طور پر ابوسفیان کو جا کر یہ رپورٹ کر دی ہو۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۲ نصف آخر صفحه: ۳۶۸، ۳۶۹) قطع نظر اس سے کہ نعیم کس کا ایجنٹ تھا اور دلی ہمدردی کس کے ساتھ تھی دونوں صورتوں میں اس کے سوا وہ کچھ اور کر ہی نہیں سکتا تھا۔اگر مسلمانوں کا ہمدرد تھا تو بھی اس کی ہمدردی کا تقاضا تھا کہ کفار کو فوری طور پر ایسی اطلاع دے جس سے وہ یہود کی طرف سے بدظن ہو جائیں۔اگر کافر کا ایجنٹ تھا تب بھی ضروری تھا کہ فوراً ان کو مطلع کر دے کہ یہودی تمہیں دھوکا دے گئے ہیں۔پس یہ محض نخوا کے نعرہ ہائے تکبیر کی برکت تھی جس نے نعیم کو وہ کام کرنے پر مجبور کر دیا جو مسلمانوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوا۔اس کے سوا وہ کچھ کر ہی نہ سکتا تھا۔بہر حال ابوسفیان کو جب یہود کی نیت پر شک پڑ گیا تو اس نے ایک وفد یہود کی طرف اس مطالبہ کے ساتھ بھجوایا کہ ہم نے عام دھاوا بولنے کا فیصلہ کر لیا ہے اس لئے کل جب ہم سامنے سے حملہ کریں تو تم معاہدہ کے مطابق پشت پر سے حملہ آور ہو جانا۔اس کے جواب میں انہوں نے یہ کہلا بھجوایا کہ اول تو کل سبت کا دن ہے اس لئے کل ہمارے لڑنے کا سوال ہی نہیں۔دوسرے ستر یرغمالیوں کی شرط بھی باقی ہے تم یہ شرط پوری کرو گے تو ہم اپنے حصہ کی ذمہ داری ادا کریں گے۔ابوسفیان چونکہ پہلے ہی بدظن ہو چکا تھا اس لئے ان کی طرف سے مایوس ہو گیا۔اس کے بعد دو تین روز مسلسل کفار کی طرف سے خندق فتح کرنے کی بھر پور کوششیں شروع ہو گئیں اور ہر طرف سے حملے ہونے لگے لیکن سر توڑ کوشش کے باوجود کفار اپنے ارادہ میں ناکام رہے اور کسی مقام پر بھی خندق پر قبضہ نہ جما سکے۔یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل اور غیبی نصرت تھی ورنہ کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی کہ اپنی غیر معمولی طاقت اور عددی غلبہ کے باوجود وہ اپنے ارادہ میں ناکام رہے۔