خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 403
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 403 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۱۰۸۹۱ مانگی تھی اور آنحضور نے مناسب حال مشورہ دے دیا۔اس میں نہ تو کسی دھو کے کا ذکر ہے نہ مسلمانوں کے لئے کوئی مدد مانگی گئی ہے بلکہ نصیحت صرف اتنی ہے کہ اپنی ذات کو خطرے میں نہ ڈالنا اور احتیاط اور ہوشیاری سے کام لینا۔سوم : نعیم کے بارہ میں واقدی کا بیان یہ ہے کہ نیم دراصل ابوسفیان کا خفیہ ایجنٹ تھا جسے مسلمانوں کے لشکر کی خبریں لانے پر مقرر کیا گیا تھا۔( شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۵۰۱) قرائن بتاتے ہیں کہ یہی بات درست ہے ورنہ نعیم کو دونوں لشکروں کے درمیان آنے جانے کا موقع مل ہی نہیں سکتا تھا۔پس یہ الگ بات ہے کہ الٹی تقدیر کے مطابق ابوسفیان نے ایسا آدمی چن لیا ہو جسے وہ اپنا ایجنٹ سمجھ رہا ہو لیکن دل سے وہ شخص مسلمان ہو کر اہل اسلام کا مفادعزیز رکھتا ہو۔بہر حال نعیم کے بارہ میں واقدی کا بیان دوسرے مورخین کی نسبت زیادہ قرین قیاس اور معقول نظر آتا ہے۔اس بیان کی روشنی میں جب ہم آنحضو کے جواب پر دوبارہ غور کرتے ہیں تو وہ ایک نہایت فصیح و بلیغ ذو معنی کلمہ معلوم ہوتا ہے۔آنحضور ﷺ کی نہایت تیز فراست کے لئے اس احتمال کو بھانپ لینا ہرگز مشکل نہ تھا کہ نعیم مسلمانوں کی خبریں حاصل کرنے کے خاطر بھی یہ چال چل سکتا ہے کہ خود کو مسلمان ظاہر کرے ورنہ وہ مسلمانوں کے لشکر میں با آسانی آجانہ سکتا تھا۔اگر نعیم اسلام قبول کر کے اسلامی لشکر میں ہجرت کر کے آجا تا تو بظاہر شبہ کی کوئی بات نہ تھی لیکن اسلام قبول کرنے کے باوجود لشکر کفار میں رہنا اور بحیثیت مسلمان کفار کے لشکر میں آنے جانے کی سہولت بھی حاصل کر لینا ، ایسے حالات ہیں جو نعیم کو جاسوسی کے لئے بہترین موقع فراہم کر سکتے تھے اور قطعی طور پر ایسے شخص کے بارہ میں یہ علم نہیں ہو سکتا کہ وہ دراصل کس کا جاسوس تھا ؟ اگر کفار کا مزید جاسوس بننا تھا تب بھی اس نے یہی کرنا تھا کہ آنحضور کے سامنے آکر خود کو مسلمان ظاہر کرتا۔اگر واقعہ مسلمان ہو کر کفار کے لشکر کی جاسوسی کرنی تھی تب بھی مسلمان ہونا ضروری تھا۔پس محض اس کا آنحضور کے سامنے اسلام کا اقرار کرنا اسے یہ اہلیت نہیں دیتا کہ آنحضور اُس پر فوراً مکمل اعتماد کر کے اپنی طرف سے جاسوس بھی مقرر فرما دیتے ہاں یہ امر کہ آنحضور کی سنت میں داخل تھا کہ مشکوک حالت میں بھی اسلام کا دعویٰ کرنے والے کا مسلمان ہونا منظور فرما لیتے تھے اس لئے آپ کا نعیم کے ساتھ یہ سلوک تعجب انگیز نہیں۔پس آپ کا یہ فرمانا کہ لڑائی میں چالیں چلی ہی جاتی ہیں خود نعیم کی طرف بھی تو اشارہ ہوسکتا ہے۔