خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 400 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 400

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 400 غزوات النبی اے میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۱۰۸۹۱ ہو سکیں جس کا آنحضور کو اتنا صدمہ ہوا کہ آپ نے فرمایا۔خدا کفار کو سزا دے،انہوں نے ہماری نمازیں ضائع کیں۔۔۔۔آنحضرت کے اخلاق پر ایک بہت بڑی روشنی پڑتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ عظیم ترین چیز آپ کے لئے خدا تعالیٰ کی عبادت تھی جبکہ دشمن چاروں طرف سے مدینہ کو گھیرے ہوئے تھے ، جبکہ مدینہ کے مرد تو الگ رہے عورتوں اور بچوں کی جانیں بھی خطرہ میں تھیں ، جب ہر وقت مدینہ کے لوگوں کے دل دھڑک رہے تھے کہ دشمن کسی طرف سے مدینہ کے اندر گھس نہ جائے اس وقت بھی آنحضور ﷺ کی خواہش یہی تھی کہ خدا تعالیٰ کی عبادت اپنے وقت پر عمدگی کے ساتھ ادا ہو جائے۔نعیم بن مسعود کا جنگ احزاب میں کردار ایک چھوٹی سی بات جسے بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ) بنو قریظہ کی غداری اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے خطرناک حالات کے ذکر میں ایک ایسے واقعہ کا ذکر نہایت ضروری ہے جو اکثر تاریخی کتب نے غلط طور پر بیان کیا ہے اور یہودی خطرہ کے ملنے کا تمام تر سہرا خواہ مخواہ ایک شخص نعیم بن مسعود کے سر پر باندھ رکھا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ ان کے کردار پر بھی ایک تہمت کا سایہ سا ڈال دیا ہے کہ گویا آپ نے اس خطرہ کو ٹلانے کے لئے خود نعیم کو ہدایت فرمائی تھی کہ ہیر پھیر اور چال بازی کے ذریعہ دشمنوں میں پھوٹ ڈال دے حالانکہ قطعی تاریخی شواہد سے ثابت ہے کہ ہرگز ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا اور آنحصول ہر گز کسی چال بازی کے نہ محتاج تھے، نہ ملوث ہو سکتے تھے، نہ ہوئے۔صلى الله قصہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ نعیم بن مسعود جو بنو غطفان کی شاخ بنوا مجمع کا ایک فرد تھا، اگر چہ حملہ آور لشکر میں شامل تھا لیکن دل سے مسلمان ہو چکا تھا۔وہ خفیہ طور پر آنحضوں کی خدمت میں حاضر ہوا، اپنی خدمات پیش کیں۔اس پر آنحو ں نے یہ فرما کر کہ لڑائی میں دھوکے سے کام لیا جاتا ہے اسے نعوذ باللہ مسلمانوں کی خاطر چال بازی کرنے کا اشارہ کیا۔چنانچہ اس نے ایسی چالا کی کی کہ دیکھتے ہی دیکھتے دشمنوں کی صفوں میں پھوٹ ڈال دی۔(۱) وہ پہلے تو یہودی قبیلہ بنو قریظہ کے پاس گیا اور انہیں کفار کی بدعہدی کا خوف دلا کر اس