خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 399
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 399 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۱۰۸۹۱ نہ ہوگی لیکن ان آگ کے بیٹوں کو یہ گمان بھی نہ ہو سکتا تھا کہ صحابہ کس چکنی مٹی کس طین لا زب کے بنے ہوئے ہیں جو آگ میں پڑ کر اور بھی زیادہ مضبوط ہو کر نکلتی ہے۔پس بہت جلد ان کو منہ کی کھانی پڑی اور اپنی جواں مردی کی لاشیں پیچھے چھوڑتے ہوئے جب وہ عجلت میں خندق عبور کر کے واپس ہونے لگے تو ان میں سے ایک سوار کا گھوڑا خندق میں گر پڑا اور گھڑ سوار جو پہلے ہی زخمی تھا اس حادثہ سے جانبر نہ ہو سکا۔اس شخص کا نام نوفل بن عبداللہ تھا اور یہ قبیلہ بنی مخزوم کا رئیس تھا۔اس خبر سے کفار کے کیمپ میں سراسیمگی پھیل گئی اور یہ خوف لاحق ہو گیا کہ کہیں مسلمان شہدائے احد کی بے حرمتی کا بدلہ لینے کی خاطر اس مقتول سردار کے ناک کان کاٹ کر اس کا حلیہ نہ بگاڑ دیں۔اگر ایسا ہوتا تو گویا اس کے سارے قبیلہ کی ناک کٹ جاتی۔چنانچہ عرب سرداروں نے آنحضو کی خدمت میں یہ پیغام بھجوایا کہ اگر آپ اس سردار کی لاش بغیر چہرہ بگاڑے ہمیں واپس لے جانے دیں تو ہم اس کے بدلے ایک سو اونٹ دینے کے لئے تیار ہیں باوجود اس کے کہ سو اونٹ ایک ہزار آدمیوں کے لئے دس دن کی خوراک مہیا کر سکتے تھے آنحضور ﷺ نے بلا توقف اس پیش کش کو یہ کہ کر ٹھکرا دیا کہ ہم نہ تو مردوں کے چہرے بگاڑتے ہیں نہ لاشوں کی قیمت وصول کرتے ہیں لہذا تم ویسے ہی اس لاش کو اٹھا کر لے جاؤ۔شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۴۹۷) ذرا سوچئے تو سہی کیا کوئی دنیاوی جرنیل ایسے موقع کو ہاتھ سے جانے دے سکتا تھا؟ عام دنیا کے دستور اور اخلاقی معیار سے دیکھا جائے تو اس میں کوئی اخلاق سے گری ہوئی بات نظر نہیں آتی کہ دشمن از خود اپنی ایک لاش کے بدلے کوئی قیمت پیش کرے اور سخت ضرورت مند دفاعی فوج اسے قبول کر لے۔پس اگر آنحضو سے اس پیش کش کو قبول فرما لیتے تو وہ ناقدین بھی جو آپ ﷺ کی صف میں نمایاں ہیں آپ ﷺ پر کسی قسم کا کوئی الزام عائد نہ کر سکتے لیکن آنحضوﷺ کا اخلاقی معیار اتنا لطیف اور اعلیٰ اور ارفع تھا کہ دنیاوی اخلاق کی میزان پر تولا نہ جا سکتا تھا۔تقویٰ کی باریک راہوں کا یہ عظیم معلم جسم و جان کی حفاظت سے کہیں زیادہ مومنوں کے اعلیٰ اخلاق کا محافظ اور نگہبان تھا۔پس جب بھی اخلاقی قدروں اور جسمانی مفادات کا تصادم ہوا آپ نے بلا استثناء اخلاقی قدروں کی چوکھٹ پر جسم و جان کو قربان ہونے دیا۔جنگ کے دوران ایک دن حملہ اتنا شدید ہو گیا کہ مسلمانوں کی بعض نمازیں وقت پر ادا نہ