خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 401 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 401

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 401 غزوات النبی یہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۶۰۸۹۱ بات پر آمادہ کر لیا کہ ابوسفیان سے مطالبہ کریں کہ جب تک ستر معروف صاحب حیثیت آدمی بطور یر غمال ہمارے سپرد نہیں کرو گے ہم تم پر اعتماد نہیں کر سکتے اور لڑائی میں تمہارے ساتھ شامل نہیں ہوں گے۔(۲) دوسری طرف ابوسفیان سے جا کر کہا کہ یہودی تم سے دھوکا کر رہے ہیں تم ان کو فوری حملہ کا پیغام دوتو دیکھو گے کہ وہ حملہ پر آمادہ ہونے کی بجائے تم سے بر یغمالیوں کا مطالبہ کریں گے۔چنانچہ یہود کی طرح ابو سفیان بھی اس کی باتوں میں آ گیا اور جب یہود کو فوری حملہ کا پیغام بھیجا تو انہوں نے جوابا ستر یر غمالیوں کا مطالبہ کر دیا۔تب ابوسفیان نے سوچا کہ واقعی نعیم ٹھیک ہی کہتا تھا اور جب اس نے یرغمالی دینے سے انکار کر دیا تو یہود نے بھی سوچا کہ واقعی نعیم سیج ہی کہتا تھا۔اس طرح انہوں نے لڑائی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا اور مسلمانوں کا خطرہ ٹل گیا۔(السیرۃ الحلبیہ مترجم اردو زیر غزوہ خندق ، جلد ۲ صفحہ: ۳۸۳۔۳۸۶) یہ بچوں والی کہانی بیان کر کے مورخین یہ تاثر دیتے ہیں کہ گویا مسلمانوں کی بلا ٹالنے اور جنگ احزاب کی تقدیر بدلنے میں سب سے بڑا کردار نعیم نے ادا کیا۔اور وہ بھی ایسی چالاکی سے جو اگر جھوٹ نہیں بھی تھی تو جھوٹ کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ ضرور گھوم رہی تھی۔معاذ اللہ من ذلک۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ۔یہ واقعہ محض ایک قصہ، ایک کہانی، ایک افسانہ ہے جس کا حقیقت حال سے کوئی بھی تعلق نہیں اور اس روشن اور صاف اور پاکیزہ الہی تدبیر پر سایہ ڈالنے کے مترادف ہے جو اللہ تعالیٰ نے صلى الله اپنے محبوب بندے محمد مصطفی کے لئے اور آپ کے اصحاب کے لئے اختیار فرمائی۔ذراسی تلاش کے ساتھ انہی تاریخی کتب سے وہ پختہ روایات بھی مل جاتی ہیں جو اس سارے قصہ کو جھٹلا رہی ہیں اور معمولی غور وفکر اور چھان بین سے روایات کی اندرونی شہادتیں بھی اس مفروضہ کے خلاف ناقابل تردید دلائل پیش کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔اصل واقعات اختصار کے ساتھ پیش کرتا ہوں : اوّل: جب پہلے پہل کیی بن اخطب بنو قریظہ کو پھسلانے کے لئے ان کے پاس پہنچا ابھی نعیم کا کوئی ذکر اذکار بھی مسلمانوں نے نہیں سنا تھا کیونکہ نعیم اس واقعہ کے بہت بعد آنحضور کی خدمت میں آیا ہے ) تو سب تاریخیں متفق ہیں کہ بنو قریظہ اس پر اعتماد نہیں کر رہے تھے اور بڑی طویل بحث و تمحیص اور تحفظات کے سوال اٹھا کر بڑی دیر بعد مسلمانوں سے غداری پر آمادہ ہوئے: