خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 398 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 398

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 398 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۱۰۸۹۱ یہ وہ وقت تھاجب تقدیر الہی مستقبل سے پردہ اٹھانے ہی والی تھی اور أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللهِ قریب کا وعدہ پورا ہونے کو تھا۔اس دور میں آنحضور کے کردار کو دیکھ کر قرآن کریم کی اس آیت کی طرف ذہن منتقل ہو جاتا ہے کہ اِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ اِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا (الاحزاب : ۷۳) یعنی ہم نے کامل شریعت اور عظیم اخلاقی ذمہ داریوں کی امانت کو زمین و آسمان کے سامنے حتی کہ پہاڑ صفت اور مضبوط ہستیوں کے سامنے بھی رکھا لیکن وہ ڈر گئے اور اس بات پر آمادہ نہ ہوئے کہ اس بوجھ کو اٹھا لیں تب انسان کامل یعنی ہمارا بندہ محمد ﷺ ) آگے بڑھا اور اس امانت کو اٹھا لیا۔یقیناً وہ اس ذمہ داری کو نبھانے کی خاطر اپنے نفس پر بہت ظلم کرنے والا اور اس ظلم کے نتائج سے بے پرواہ اور بے نیاز تھا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضور کے عظمت کردار کی جو تصویر کھینچی ہے وہ آپ کے کردار کے ہر پہلو پر ہمہ وقت صادق آتی ہے۔آپ کی ذمہ داریوں نے سینکڑوں ہولناک بھیس بدلے اور کئی ڈرانے والے لباسوں میں آپ کے سامنے آئیں لیکن کبھی آپ ان سے ادنی سا بھی خائف نہ ہوئے اور ادائیگی فرض کے ضمن میں آپ نے ایسے ایسے بوجھ اٹھا لئے کہ بڑے سے بڑے با حوصلہ اور با ہمت کہلانے والے بھی ان کے تصور سے پیچھے ہٹ جاتے۔اقتضائے وقت اور خلق مصطفوی کا ایک عجیب تصادم میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ جنگوں کے دوران آنحضو کے کردار کو عام دنیا کے جرنیلوں کے پیمانوں سے ناپنا محض ایک حماقت اور جہالت ہے۔آپ تو میدان روحانیت اور کارزار اخلاق کے سپہ سالار تھے پس اخلاق کی اعلیٰ قدروں کو بچانے کی خاطر جسم و جان کے ادنی تقاضوں کی آپ نے کبھی پرواہ نہ کی۔مورخین ہمیں بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ کفار کی حملہ آور پارٹیوں میں سے ایک گھڑ سوار پارٹی گھوڑے دوڑا کر خندق پھلانگنے میں کامیاب ہوگئی لیکن ان کو یہ جسارت بہت مہنگی پڑی۔ان کو شاید یہ غلط فہمی تھی کہ بھوک اور سردی اور مشقت کا شکار ہوکر صحابہ میں لڑنے کی سکت باقی