خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 397
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 397 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۱۰۸۹۱ وَلَمَّارَاَ الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا شمن اِيْمَانًا وَتَسْلِيمَاتٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ ۚ فَمِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا (الاحزاب : ۲۳ - ۲۴) ترجمہ: اور جب حقیقی مومنوں نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو کہا یہ تو وہی (لشکر ) ہیں جن کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے بالکل سچ بولا تھا۔اور ان کو اس واقعہ نے ایمان اور اطاعت میں اور بھی بڑھایا ( کمزور نہیں کیا)۔ان مومنوں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اس وعدہ کو جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا سچا کر دیا۔پس بعض تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی نیت کو پورا کر دیا ( یعنی لڑتے لڑتے مارے گئے ) اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو ابھی انتظار کر رہے ہیں اور اپنے ارادہ میں کوئی تزلزل انہوں نے نہیں آنے دیا۔وہ وعدہ جسے مومنوں نے اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھا تھا ان کے دل پہلے سے بڑھ کر ایمان اور یقین سے بھر گئے وہی وعدہ تھا جس کا وعدہ سورۃ ص میں جو مکی سورتوں میں سے ہے ان الفاظ میں ملتا ہے: جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوم مِّنَ الْأَحْزَابِ (ص: ٢١) ایک (غیر متقی) منظم لشکر ( کی ہم خبر دیتے ہیں جو محمد ﷺ کے مقام پر حملہ کرے گا مگر ) آخر وہاں سے بھاگ جائے گا۔اور دوسری جگہ سورۃ القمر میں بھی بیان ہوا: سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَثُونَ الدُّبُرَ ( القمر : ٢٤) دشمن کی جمعیت شکست کھا کر پیٹھ پھیرتی ہوئی بھاگ کھڑی ہوگی۔سیہ وہ وقت تھا کہ بے اختیار مَتی نَصْرُ الله کی آوازیں مومنوں کے دلوں سے بلند ہو رہی تھیں کہ اے ہمارے آقا ! ہم یقین تو رکھتے ہیں کہ تیرے وعدے ضرور پورے ہوں گے اور تیری نصرت ضرور آئے گی لیکن کب آئے گی وہ نصرت؟ کہ اب صبر کی طاقت نہیں رہی۔