خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 391
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 391 غزوات النبی اے میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۰۸۹۱ء نہیں آتا تھا۔دو تین میل لمبی خندق پر کسی وقت کسی جگہ بھی دشمنوں کے تازہ دم دستے باریاں بدل بدل کر حملے کرتے تھے اور مسلمانوں کو ہر وقت چاک و چوبندان سے حفاظت پر مامور رہنا پڑتا تھا اور ہر خطرے کے وقت وہ آنحضور کی طرف دوڑتے تھے۔آنحضو ﷺ ہمہ وقت ان کی نگرانی فرماتے، ان کو ہدایت دیتے ، ان کی ڈھارس بندھاتے۔تمام اطلاعات اور تمام ہدایات کا مرکز آپ کی ذات تھی۔پس دوسرے صحابہ کو تو کچھ آرام کا وقت میسر آ بھی جاتا مگر آپ کا دل تو ساری سرحد پر صحابہ کی ہر ٹولی کے ساتھ اٹکا ہوا تھا۔خطرہ جگہیں بدلتا ہوا اصحابہ کی جس ٹولی پر بھی منڈلاتا ، دن ہو یا رات آپ اس سے براہِ راست متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے۔ہر چند کے آپ کی روح ذکر الہی میں مستغرق یاریگا نہ میں نہاں در نہاں۔انسانی دست برد سے محفوظ ایک اور ہی عالم میں بستی تھی لیکن جسم تو بہر حال تقاضائے بشریت سے مجبور تھا اور ہر دکھ اور تکلیف کو اسی طرح محسوس کرتا تھا جیسے دوسرے انسانوں کے جسم بلکہ سب دوسروں سے بڑھ کر حساس تھا اس لئے میں سوچتا ہوں کہ ان دنوں کی تلخیاں آپ نے کس مافوق البشر صبر کے ساتھ برداشت کیں کہ صبر ایوبی آپ کے صبر کے سامنے پھیکا دکھائی دیتا ہے۔میں سوچتا ہوں کہ جب شدید اور سخت سردی اور دن رات کی تھکن آپ کے بدن کی نس نس کو ستاتی تھی تو آپ کا کیا حال ہوتا ہوگا۔میں سوچتا ہوں کہ جب نیند کی پیاسی آنکھیں حد برداشت سے بڑھ کر بوجھل ہو جاتی تھیں تو آپ کسی اپنی عزم کے ساتھ پلکوں کو چومتی ہوئی نیند کو جھٹک دیا کرتے تھے۔آپ کی ذات وصفات کے بارہ میں قرآن کریم کی یہ گواہی کیسی بچی لیکن دردناک ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے لئے آپ اپنے نفس پر بڑا ہی ظلم کرنے والے تھے۔مصائب کی ان طویل گھڑیوں میں آپ کے آرام کے بارہ میں بہت کم ذکر ملتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ آپ اتنا تھک گئے کہ سخت مجبور ہو کر چندلمحوں کے لئے ستانے کو لیٹ گئے ایسے مختصر سے آرام کے اور بھی کئی وقت آئے ہوں گے لیکن مشکل یہ تھی کہ گھڑی گھڑی کی پر خطر خبر میں لئے ہوئے صحابہ آپ کے پاس پہنچ جایا کرتے تھے اور وہ بھی کیا کرتے اور جاتے تو صلى الله کہاں جاتے؟ چین دل، آرام جان پاتے تو کہاں پاتے ؟ ایک در مصطفی ﷺ ہی تو تھا جسے دن رات کھٹکھٹایا جا رہا تھا پس آرام کی چند گھڑیاں بھی دراصل آپ کو میسر نہ آتی تھیں۔لیکن ایک موقع پر