خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 392
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 392 غزوات النبویہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ۱۰۸۹۱ پ کی آنکھ لگی تو حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ ہتھیار بند آپ کے پہرے پر کھڑے ہو گئے تا کہ کوئی آپ کے آرام میں مخل نہ ہونے پائے۔یہ بھی ایک عجیب نظارہ تھا مائیں بچوں کے لئے جاگا کرتی ہیں شاید کبھی ایسا بھی واقعہ گزرا ہو کہ کوئی ماں اپنے بیمار بچے کے لئے اتنا جاگی ہو اتنا جاگی ہو کہ آخر سخت مجبور ہو کر اس کا سر تکیہ پر ڈھلک جائے اور بیمار بچہ اس کی حفاظت کے لئے اُٹھ بیٹھے کہ کہیں کوئی نادانی سے شور کر کے اسے جگا نہ دے۔وہ وقت کچھ اس قسم کا تھا کہ صحابہ کی خاطر دن رات جاگنے والا وجو دسویا ہوا تھا اور صحابہؓ اس کی نیند کی حفاظت کر رہے تھے۔جوں جوں وقت گزرتا گیا آپ کے بوجھ بڑھتے رہے اور مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ہر چند کہ صحابہ کی روحیں مستعد تھیں مگر جسم کمزور تھے اور شب وروز کی محنت شاقہ اور پریشانی نے انہیں اس قدر نڈھال کر رکھا تھا کہ دن رات خندق کی نگرانی اور حفاظت کا کام ان کی طاقت سے بڑھتا جارہا تھا اور طاقت تھی کہ ساعت بساعت گھٹتی چلی جارہی تھی۔محاصرہ کے آخری ایام میں تو ایسی راتیں بھی آئیں کہ خود آنحضوں کو پر خطر مقامات کی حفاظت کے لئے جانا پڑتا ور نہ وہ جگہیں صلى الله حفاظت سے خالی رہ جاتیں۔ایک مرتبہ ایسی ہی ایک رات کو آنحضور تھکاوٹ سے چور ہو کر ذرا ستانے کے لئے خیمے میں واپس آئے تو ایک صحابی نے موقع غنیمت جانا اور ہتھیار بند ہو کر آپ کے خیمہ کے باہر کھڑے ہو گئے تا کہ چند لمحے حضور کی دربانی کی سعادت حاصل ہو جائے۔لیکن آنحضور بیدار تھے اسکی آہٹ سن کر پوچھا کون ہے؟ اس نے جواب دیا میں ہوں یا رسول اللہ !۔آپ کے خیمہ کا پہرہ دینے آیا ہوں۔آنحضور ﷺ نے فرمایا میرا پہرہ چھوڑ و فلاں مقام پر خندق بغیر نگرانی کے ہے اور اس طرف سے خطرہ پیش آسکتا ہے اس لئے تم وہاں جا کر نگرانی کرو۔( صحیح بخاری کتاب الجھا دو السير باب الحراسة في الغزو فی سبیل اللہ ) اس واقعہ سے جہاں یہ پتا چلتا ہے کہ آنحضور ہمہ وقت تمام حالات سے باخبر رہتے تھے وہاں صحابہ کی نا گفتہ بہ حالات کا اندازہ ہوتا ہے۔آپ کا اس مقام خطر سے واقف ہونے کے با وجود کسی کو وہاں مقرر نہ کرنا ہی بتاتا ہے کہ آپ کے نزدیک مجاہدین اتنے تھک چکے تھے کہ اس وقت ان میں سے کسی کو مقرر فرما نا طاقت سے بڑھ کر تکلیف دینے کے مترادف تھا۔عین ممکن ہے کہ اس وقت خیمہ کی تنہائی میں آپ اسی بارہ میں مصروف دعا ہوں کہ اے میرے آقا! میں تنہا رہا جاتا ہوں خود