خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 390
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 390 غزوات النبی اے میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۰۸۹۱ء احزاب کے پر ستم ایام میں۔کیا پہلے بھی کبھی آسمان کی آنکھ نے ایسا حیرت انگیز نظارہ دیکھا تھا کہ چند نحیف و نزار فاقہ کش درویشوں کے درمیان جو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوں۔اُن کا نبی اُن سے شرق و غرب ، شمال و جنوب کی فتوحات کے وعدے کر رہا ہو اور سننے والوں کے دل حیرت و استعجاب میں ڈوب جانے اور بے یقینی اور بے اطمینانی کا شکار ہونے کی بجائے یقین اور ایمان میں پہلے سے بھی بڑھ جائیں۔وہ پہلے سے بڑھ کر اپنے آقا کی صداقت کے قائل ہو جائیں اور ایسے پر جوش نعرہ ہائے تکبیر سے اس کی صداقت کی گواہی دیں کہ عرش کے کنگرے بھی لرز نے لگیں۔مومنوں کی اس عجیب جماعت کو ہم کیا نام دیں اور کس لقب سے پکاریں۔کیا وہ ایک دیوانوں کی جماعت تھی یا حد سے بڑھے ہوئے عشاق کا ایک گروہ یا مئے عرفان و ایمان میں مست ہوش و خرد سے بے نیاز لافانی لوگ تھے جو اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی اس عالم بقا میں بستے تھے۔میں تو کہتا ہوں کہ تینوں نام اُن پر سجتے تھے۔وہ اس خطہ سماوی کے باشندے تھے جہاں جنون اور عشق اور فنافی الرسول اور فنافی اللہ کی سرحدیں ملتی ہیں۔لیکن اک ذرا ٹھہرو اور سوچو کہ یہ مصطف صلى الله انہوں نے کیسے حاصل کیا اور یہ قوت انہوں نے کہاں سے پائی؟ بلاشبہ یہ کرشمہ حضرت محمد مصنف میں سے کی صداقت ہی کا تو تھا۔مومنوں نے آنحضور کو ہر حال میں ہر آزمائش میں ہمیشہ سچا پایا تھا اور جانتے تھے کہ آپ کی صداقت ایک لازوال اور اٹل حقیقت ہے جو سورج سے بڑھ کر روشن اور یقینی ہے۔بھلا کبھی راتوں نے بھی سورج کے وجود کو مشکوک کیا ہے ؟ یا سیاہ بادلوں کے لائے ہوئے گھپ اندھیروں نے بھی کبھی مہر تاباں کے بارہ میں وسوسے پیدا کئے ہیں۔پس درحقیقت صحابہ کا غیر متزلزل ایمان آنحضور ﷺ کی لازوال صداقت کا ہی ایک پر تو تھا جس کی ضو پاشی ان کے دلوں سے منعکس ہو کر ہمیں ان کے نور ایمانی کی صورت میں نظر آتی ہے۔لاریب آپ کی صداقت ہی توانائی کا وہ ابدی سرچشمہ تھی جس سے صحابہ کے ایمان زندگی کی قوت پا رہے تھے۔پس اے سچائی کے شہزادے! تجھ پر سلام، اے صادقوں کے قافلہ سالار! تجھ پر درود، تجھ سا نہ کوئی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا۔محاصرہ کے ساتھ ساتھ جوں جوں غزوہ احزاب کی تلخیاں بڑھیں۔آنحضور ﷺ کی ذمہ داریاں بھی اسی نسبت سے بڑھنے لگیں۔دن اور رات کوئی لمحہ بھی مسلمانوں پر چین اور سکون کا