خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 362
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت شہداء کی تدفین 362 غزوات النبوی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء آئیے ! اب ہم شام احد کی کچھ باتیں کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ جب جنگ کے بادل چھٹ گئے اور دشمن حضور کو ہلاک کرنے کی حسرت لئے ہوئے خائب و خاسر لوٹ گیا تو حضور کی یہ شام کیسے بسر ہوئی؟ سب سے پہلے تو حضور نے اپنی نگرانی میں شہداء کی تدفین کا انتظام فرمایا۔یہ نظارہ بڑا پر درد تھا لیکن خلق محمد سمی نے اس درد کو بھی ایک حسن کی چادر پہنا رکھی تھی۔آپ کی فطرت پھولوں سے زیادہ لطیف اور معطر تھی اور کوئی ایک گھڑی بھی مہک اور خوشبو سے خالی نہ تھی۔تمام دن کی شدید تعب اور تھکن اور زخموں کی کسک کے باوجود آپ نے شہیدوں کی تدفین میں کسی افرا تفری یا جلد بازی سے کام نہ لیا بلکہ بڑی احتیاط کے ساتھ یہ معلوم کر کے کہ اس دنیا میں کون کس کے زیادہ قریب تھا جہاں تک ممکن ہوا اقرباء اور محبت کرنے والوں کو ایک ساتھ دفن کرواتے رہے۔حضرت عمرو بن جموح کے ساتھ ان کے برادر نسبتی عبد اللہ بن عمرو بن حرام کو یہ کہہ کر دفن فرمایا کہ دنیا میں دونوں بہت ہی عزیز دوست تھے۔حضرت حمزہ کے ساتھ ان کے بھانجے عبداللہ بن جحش کو اکٹھا کیا۔(شروح الحرب ترجمہ فتوح العرب صفحہ: ۳۵۵) اور جہاں دوسرا قرابت کا رشتہ نہ پایا وہاں حفظ قرآن کو ہی معیار قرابت قرار دیا۔عربوں کے نزدیک ہم مشرب اور ہم پیالہ ہونا با ہمی قرب اور انس کی دلیل سمجھا جاتا تھا۔آنحضور نے ہم مشرب کہلانے کے لئے جو پیمانہ مقرر فرمایا وہ کتاب اللہ کا پیمانہ تھا۔یہ وہ پیمانہ نہ تھا جس میں فرق کے ساتھ کلام الہی کی شراب بلتی تھی۔آپ نے حکم دیا جو شہداء حفظ قرآن میں ہم مرتبہ ہوں یا قریب تر ہوں ان کو ایک ساتھ دفن کیا جائے۔بہترین ہمدردومونس شہداء کی تدفین کی نگرانی کے ساتھ دکھیا دلوں کی غم خواری بھی فرماتے جاتے۔شہداء کے وارثین کو بڑی ملائمت اور پیار اور حکمت عملی کے ساتھ ان کے پیاروں کی شہادت کی خبر دیتے۔آپ کا انداز ایسا انوکھا تھا اور بات ایسی دل میں اترنے والی تھی کہ غم ناک خبر کی اطلاع کے ساتھ ساتھ دلجوئی بھی ہوتی چلی جاتی تھی اور صبر نہ بھی آتا ہوتو محمد مصطفی کے انفاس قدسیہ کی برکت سے آہی جاتا تھا۔