خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 363
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 363 غزوات النبوی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام کی شہادت پر اللہ تعالیٰ نے ان کی جو بندہ نوازی فرمائی۔اس کا ذکر ان کے بیٹے جابر بن عبد اللہ سے فرما کر ان کے زخم پر پھا یار کھ دیا بلکہ ایک عارضی غم کے بعد ایک ایسی جاودانی خوشخبری عطا فرمائی جو بعد ازاں تادم مرگ ان کی خوشیوں کا سرمایہ بنی رہی۔وہ صحابہ یا صحابیات جن کے اقرباء میں شہید ہونے والوں کی تعداد ایک سے زیادہ ہوتی ان کو ٹھہر ٹھہر کر اس انداز میں خبر دیتے کہ صدمہ یک لخت دل کو مغلوب نہ کر لے۔چنانچہ جس وقت حضور کی خدمت میں حضرت عبداللہ کی بہن مسماۃ حمنہ دختر جحش حاضر ہوئیں تو آپ نے فرمایا اے حمنہ ! تو صبر کر اور خدا سے ثواب کی امید رکھ۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کس کے ثواب کی؟ آپ نے فرمایا اپنے ماموں حمزہ کی۔تب حضرت حمنہ نے کہا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ غَفَرَلَهُ وَ رَحِمَهُ هَنِيئًا لَهُ الشهادة۔اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ اے حمنہ ! صبر کر اور خدا سے ثواب کی امید رکھ۔اس نے عرض کیا کہ یہ کس کے ثواب کی؟ آپ نے فرمایا اپنے بھائی عبداللہ کی۔اس پر حمنہ نے پھر یہی کہا اناللہ وانا اليه راجعون۔غفر له ورحمه هنيئًا له الشهادة۔آپ نے فرمایا اے حمنہ ! صبر کر اور خدا سے ثواب کی امید رکھ۔انہوں نے عرض کیا حضور یہ کس کے لئے؟ فرمایا مصعب بن عمیر کے لئے۔اس پر حمنہ نے کہا ہائے افسوس ! یہ سن کر حضور نے فرمایا کہ واقعی شوہر کا بیوی پر اتنابڑ احق ہے کہ کسی اور کا نہیں مگر تو نے یہ ایسا کلمہ کیوں کہا؟ اس پر انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے اس کے بچوں کی یتیمی یاد آگئی تھی جس سے میں پریشان ہو گئی اور پریشانی کی حالت میں یہ کلمہ میرے منہ سے نکل گیا۔یہ سن کر حضور نے مصعب کی اولاد کے حق میں یہ دعا کی کہ اے اللہ ! ان کے سر پرست اور بزرگ ان پر شفقت اور مہربانی کریں اور ان کے ساتھ سلوک سے پیش آویں۔یتیموں کا والی شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه : ۳۸۷، ۳۸۸) یموں پر آپ اس درجہ شفیق تھے اور ان کی خبر گیری کا ایسا خیال رہتا تھا کہ سب محبت کرنے والے غلاموں نے بھی آنحضور ہی کا رنگ پکڑ لیا اور مجاہدین اسلام کو یہ فکر نہ رہی تھی کہ پیچھے ان کی اولادوں کا کیا بنے گا؟ یتیموں کے سر پر سے شفقت کا ایک سایہ اٹھتا تھا تو سوشفقت کے سائے اس کی