خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 361 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 361

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 361 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء صحابہ کو اجازت نہ دی اور فرمایا میں خود اس کا مقابلہ کروں گا۔یہ کہہ کر حضور نے ایک نیزہ اٹھایا اور صحابہ کا ہجوم چیرتے ہوئے اس کی طرف بڑھے۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ اس وقت آپ کے نیزے سے ایک ایسی چمک سی پیدا ہوئی کہ جس طرح بجلی کے کڑکے سے اور ہماری یہ حالت ہوئی کہ جس طرح بعض اوقات بجلی کی چمک سے اونٹ اس شدت سے کانپتا ہے کہ اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ہمارے بدنوں پر بھی ایک کپکپی طاری ہو گئی۔آنحضور آگے بڑھے اور عین اس جگہ جہاں خود اور زرہ ملتے تھے اس کی گردن پر نیزے کا وار کیا جس سے وہ چکرا کر گھوڑے کی پیٹھ پر دو تین بار گھوما اور گھوم کر گر گیا۔اس کے پیچھے اس کے کچھ ساتھی بھی آرہے تھے جنہوں نے دوڑ کر اسے تھام لیا اور واپس لے گئے۔لشکر میں پہنچ کر اس نے بہت واویلا کیا کہ میں مرا جاتا ہوں۔اس پر لوگوں نے اسے سمجھایا کہ معمولی زخم ہے تو ہر گز اس سے نہیں مرے گا لیکن اس نے جواب دیا۔دیکھو محمد نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تو میرے ہاتھوں قتل ہوگا پس اس کا وعدہ ضرور پورا ہوگا یہ تو پھر ایک زخم ہے خدا کی قسم اگر وہ میرے منہ پر تھوک بھی دیتا تو میں ضرور مرجاتا۔چنانچہ وہ اس زخم سے جانبر نہ ہوسکا اور مکہ لوٹتے ہوئے دوسرے یا تیسرے پڑاؤ پر مر گیا۔( شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۳۳۵، ۳۳۶) شام احد دنیا کے شاعر شام تلج یا شام بیاسا کے حسن کی باتیں کرتے ہیں یا سندر بن میں ڈوبنے والے سورج کے سندر سمے کے گیت گاتے ہیں لیکن میں آج آپ کو ایک حسین تر شام کے کچھ قصے سناتا ہوں۔یہ ایک سوز و گداز میں ڈوبی ہوئی شام تھی جس کی شفق روتی ہوئی آنکھوں کی طرح گلابی تھی اور بھیگی ہوئی پلکیں اپنے حسن میں یکتا تھیں۔یہ شام شام احد تھی جس میں ماتم بھی تھا اور ماتم پر سیاں بھی۔جس میں بیمار عشق بھی تھے اور ناز و ادا کی تیمار داریاں بھی۔لیکن عجیب تر بات یہ تھی کہ وہ جس کا دل سب سے زیادہ غم سے بھرا ہوا تھا وہی تھا جو سب کا غمگسار بھی تھا۔ہر ایک صاحب غم دلداری کے لئے اس کے پاس آتا تھا اور وہ ایک عجیب شان محبوبی کے ساتھ ہر ایک کی دلداری کرتا تھا۔یہ وہ شام تھی جب شفق شام نے عبادت کا ایک ایسا منظر دیکھا جو سورج سے بڑھ کر روشن تھا۔وہ ایک ایسی شام تھی جس نے قیام نماز کا ایک ایسا نظارہ کیا کہ گردش لیل و نہار کو پھر قیامت تک نصیب نہ ہونا تھا۔