خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 354
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 354 غزوات النبویہ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء خدمت میں حضرت عبداللہ بن جحش کی عرض و نیاز در اصل ان آیات قرآنی کی عملی تفسیر تھی جن میں بار بار مومنوں کو اس طرف بلایا گیا کہ وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ (التوبہ: ۴۱) b پس خدا کے حضور اپنی جان پیش کرنے کے بعد آنحضور کی خدمت میں اموال پیش کرنے میں عبد اللہ بن جحش کی حکمت یہ تھی کہ ان کے نزدیک انفاق فی سبیل اللہ کے آداب سے آنحضور سے بڑھ کر اور کوئی واقف نہ تھا۔یعنی آپ کی تحویل میں جانے والا ایک ایک پیسہ، ایک ایک کوڑی راہ خدا کے سوا کسی اور مقصد پر خرچ نہیں ہو سکتے تھے۔اسی طرح آنحضور کے قدموں میں سب اموال ڈال کر وہ شہادت سے قبل یہ گواہی بھی دے گئے کہ راہ خدا میں سب سے بڑھ کر سب سے بہتر خرچ کرنے والے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔پس اس امین کے سپر د یہ امانت کر کے وہ رخصت سے قبل ہر ذمہ داری سے سبکدوش ہو گئے۔صحابہ کی سیرت کا یہ بھی ایک انداز تھا جو انہوں نے رسول اللہ سے سیکھا کہ کسی آیت کی تفسیر اس طرح کرتے کہ خود اس کی تصویر بن گئے اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِكْ وَ سَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ حضرت عبدالمطلب کی اولاد کا آنحضور کی محبت میں سرشار ہونا اہل بصیرت کے لئے آنحضور کی صداقت کی ایک ایسی دلیل ہے جس کی کوئی نظیر دنیا کے پردے پر نظر نہیں آتی۔ایک پھوپھی زاد بھائی کا تذکرہ گزر چکا ہے۔اب ایک چازاد بھائی کا حال سنئے جو قبل ازیں جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے لیکن مضمون کی مناسبت سے اس واقعہ کا یہاں ذکر بے محل نہ ہوگا۔میدان جہاد میں زخم کھانے والے حضرت عبیدہ جنگ بدر کے پہلے مجاہد ہیں جن کی پنڈلی شیبہ کی تلوار سے کٹ گئی تھی۔اس حالت میں ان کو آنحضور کی خدمت میں پہنچایا گیا کہ کٹی ہوئی ٹانگ سے خون کا پھوارہ پھوٹ رہا تھا حضور کے قدموں سے لپٹ کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرا شمار بھی شہیدوں میں ہوگا کہ نہیں آپ