خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 355
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 355 غزوات النبی میں خلق عظیم (غزوہ احد )۹۷۹۱ء نے فرمایا ہاں تم شہید ہو۔یہ سن کر طبیعت بشاش ہوگئی اور آنحضور کے ساتھ اپنی محبت پر ناز کرتے ہوئے یہ عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کے چا ابو طالب اگر آج زندہ ہوتے تو یقینا انہیں آج اقرار کرنا پڑتا کہ وہ شعر جو انہوں نے آپ کی تائید میں لکھے تھے وہ ان سے زیادہ مجھ پر صادق آرہے ہیں۔یہ کہہ کر وہ اشعار پڑھے جو یہ تھے: كَذَبْتُمْ وَبَيْتُ اللهِ تُخْلِى مُحَمَّداً وَلَمَّا نُطَاعِـنْ دُوْنَهُ وَنُنَا ضِل وَنُسْلِمُهُ حَتَّى نُصَرَّعُ حَوْلَهُ وَنَذْ هَلُ عَنْ أَبْنَائِنَا وَالْحَلَائِل کہ اے قریش !خدا کے گھر کی قسم تم یہ بات جھوٹ کہتے ہو کہ محمد کو اکیلا چھوڑ دیں گے اور اس کی حمایت میں نیزہ بازی اور تیراندازی نہیں کریں گے۔بلکہ ہم تو ایسے زور کی حمایت کریں گے کہ اسے بچاتے ہوئے ہم اس کے چاروں طرف قتل ہو ہو کر گریں گے اور اس کی حمایت میں اپنے بال بچوں اور عورتوں کو بھی بھول جائیں گے۔شروح الحرب ترجمہ فتوح العرب صفحہ: ۷۲-۷۱ ) شاران محمد جو آنحضور کے بعد زندہ نہیں رہ سکتے تھے مجاہدین اُحد میں کچھ تو وہ تھے جنہوں نے آنحضور کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان نچھاور کر دی۔پس خدا نے ان کی قربانیوں کو قبول فرمایا اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے لیکن کچھ ایسے بھی تھے جن پر حضور کی شہادت کی خبر بجلی بن کر گری اور ان کے خرمن ہوش و حواس کو خاکستر کر گئی۔وہ جیتے جی مردہ کی طرح ہو گئے اور غم وحزن کی تصویر میں بنے ہوئے ادھر ادھر پتھروں پہ بیٹھ رہے۔ایک تیسرا گروہ بھی تھا جس کا رد عمل کچھ اس طرح ظاہر ہوا کہ جینے سے نفرت ہوگئی اور دنیا کی زندگی کے منہ پر تھوکتے ہوئے دیوانوں کی طرح باب شہادت کی طرف دوڑے۔انہوں نے بہت تیزی کی اور عجلت سے کام کیا اور اس کے بند ہونے سے قبل وہ اس سے گزر کر اس ماوراء جہان میں پہنچ گئے جہاں وہ سمجھتے تھے کہ آنحضور تشریف لے جاچکے ہیں۔