خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 353
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 353 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء سعادت نصیب ہوئی اسے ایسی جزاء دے کہ کبھی کسی امت کی طرف سے کسی نبی کو نہ پہنچی ہو۔اے محبت عجب آثار نمایاں کردی زخم ومرهم و مرہم برہ یار تو یکساں کردی تانه دیوانه شدم ہوش نہ آمد بسرم اے جنوں گردے تو گردم کہ چہ احساں کر دی ( در مشین فارسی صفحه : ۲۱۷) خون سے لکھی جانے والی عشق کی لافانی داستانیں جان نثاران محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عبداللہ بن جحش آنحضور کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔سب جانتے ہیں کہ یہ رشتہ کوئی ایسا رشتہ نہیں کہ فدائیت اور وارنگی کے تقاضے کرتا ہو۔یقین یہ حضور کی بے پناہ قوت حسن و احسان ہی تھی کہ جس نے عبداللہ بن جحش کو عشق میں دیوانہ بنارکھا تھا شہید ہونے کا عزم کئے ہوئے جب وہ میدان احد میں حاضر ہوئے تو سب سے پہلے آنحضور سے یہ عرض کیا ” پس اب خدا اور رسول سے میری ایک گزارش ہے۔اللہ سے تو یہ ہے کہ اے اللہ! میں تیری پاک ذات کی قسم دیتا ہوں کہ کل کو میری ضرور دشمنوں سے اس طرح مڈ بھیڑ ہو جائے کہ وہ مجھے قتل کر ڈالیں اور پھر میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں اور میرا مثلہ بھی کریں۔غرض پھر میں اس طرح مقتول ہو کر اور یہ ساری سختیاں جھیل کر تیری ملاقات سے مشرف ہوں اور اس وقت تو مجھ سے پوچھے کہ یہ کیا حال بنارکھا ہے۔یہ ساری کارروائی تیرے ساتھ کیوں ہوئی ؟ تو اس پر میں یہ عرض کروں کہ اے پروردگار! یہ سب باتیں میرے ساتھ محض تیری وجہ سے ہوئی ہیں اور اے رسول اللہ ! آپ سے یہ گزارش ہے کہ میری شہادت کے بعد میرے 66 سب تر کہ کے مالک اور وارث آپ ہوں۔( شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه : ۳۸۷) جس خدا نے عبداللہ بن جحش کی شہادت کی آرزو پوری کر دی اس کی رحمت سے کب بعید ہے کہ شہادت کے بعد اسی طرح اس سے مکالمہ و مخاطبہ کرے جیسے اس کے دل کی تمنا تھی۔آنحضور کی