خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 350 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 350

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 350 غزوات النبی میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء یہ ایک نئی رعنائی دکھاتا ہے۔منجملہ اور امور کے اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کس طرح مسلسل آنحضور کا رابطہ اپنے رب سے قائم تھا۔بندوں پر بھی نظر شفقت فرما رہے تھے اور رب سے بھی دل ملا رکھا تھا۔ایک پہلو اپنے صحابہ پر جھکا ہوا تھا تو دوسرا پہلور فیق اعلیٰ سے پیہم وابستہ اور پیوستہ تھا۔وہ وجود جوامن کی حالت میں ثُمَّ دَنَا فَتَدَتی (انجم : 9) کے افق اعلیٰ پر فائز رہا، جنگ کی حالت میں بھی ایک لمحہ اس سے الگ نہ ہوا۔ایک نگاہ میدان حرب کی نگران تھی تو دوسری جمال یار کے نظارہ میں مصروف تھی۔ایک کان رحمت سے صحابہ کی طرف جھکا ہوا تھا تو دوسرا ملاء اعلیٰ سے اپنے رب کا شیریں کلام سننے میں مصروف۔دست با کار تھا تو دل بایار۔آپ صحابہ کی دلداری فرماتے تھے تو خدا آپ کی دلداری فرما رہا تھا۔عبداللہ بن عمرو کی قلبی کیفیت کی خبر دے کر دراصل اللہ تعالیٰ آپ کو یہ پیغام دے رہا تھا کہ اے سب سے بڑھ کر مجھ سے محبت کرنے والے! دیکھ ! تیرا بھی کیسا عشق ہم نے اپنے عارف بندوں کے دل میں بھر دیا ہے کہ عالم گزراں سے گزر جانے کے بعد بھی تیرا خیال انہیں ستاتا ہے اور تجھے میدان جنگ میں تنہا چھوڑ کر چلے جانے پر کس درجہ کبیدہ خاطر ہیں۔تیرے مقابل پر انہیں جنت کی بھی حرص نہیں رہی۔ان کی جنت تو بس یہی ہے کہ تیز تلواروں سے بار بار کاٹے جائیں ،مگر تیرے ساتھ رہیں، پھر تیرے ساتھ رہیں، پھر تیرے ساتھ رہیں۔شہیدوں کو اپنی طرف کھینچنے والا رسول حضرت عبداللہ بن عمرو کی بہن یعنی حضرت عمرو بن جموح کی اہلیہ بھی اپنے بھائی ہی کی طرح رسول اللہ کی محبت میں سراپا رنگین تھی۔خاوند اس جنگ میں شہید ہوا، بھائی اس جنگ میں شہید ہوا۔بیٹا اس جنگ میں شہید ہوا لیکن آنحضور کی سلامتی کی خوشی ان سب غموں پر غالب آگئی۔حضرت عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں کہ میں میدان جنگ کی طرف حالات معلوم کرنے جارہی تھی کہ راستے میں مجھے عمرو بن جموح کی بیوی ہند ایک اونٹ کی مہار پکڑے مدینہ کی طرف جاتی ہوئی ملی۔میں نے اس سے پوچھا میدان جنگ کی کیا خبر ہے؟ اس نے جواب دیا کہ الحمد للہ سب خیریت ہے۔حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم خیریت سے ہیں۔اتنے میں میری نظر اونٹ پر پڑی جس پر کچھ لدا ہوا تھا۔میں نے پوچھا یہ اونٹ پر کیا لدا ہوا ہے۔کہنے لگی میرے خاوند عمرو بن جموح کی