خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 349 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 349

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 349 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء پس ضمناً اس موقع پر آنحضور نے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ( البقرہ: ۷۵۲) کی بھی ایک لطیف تفسیر یہ فرما دی کہ جو بات منع نہ ہو جبرا اس سے روکا نہیں جائے گا یعنی نہ تو جبر نیکی کروانے کی اجازت ہے اور نہ جبرائیکی سے روکنے کی لیکن اجتماعی امور میں امام وقت کی اجازت بہر حال ضروری ہے کیونکہ جنت کی راہ میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا دروازہ نصب ہے۔حضرت عمرو بن جموح کی شہادت حضرت عمرو بن جموح، حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام ، حضرت ہند بن عمر بن حرام اب حضرت عمرو بن جموح کا حال سنئے کہ آنحضور کی اس اجازت سے انہوں نے کس شان اور کس چاہت کے ساتھ فائدہ اٹھایا۔حضرت طلحہ نے بیان کیا کہ احد کے روز جس وقت مسلمان شکست کھا کر بھاگنے کے بعد جمع ہو کر آئے تو میں نے حضرت عمرو بن جموح کو دیکھا کہ وہ اول ہی سے گروہ میں لنگڑاتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے آرہے ہیں کہ خدا کی قسم! مجھے تو بس جنت ہی کا شوق لگ رہا ہے اس کے بعد انہوں نے دشمنوں پر حملہ کیا اور ان کے پیچھے پیچھے ان کا ایک لڑکا بھی دوڑا تب دونوں مل کر دشمنوں پر ٹوٹ پڑے اور آخر کار دونوں ساتھ کے ساتھ شہید ہو گئے۔(شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۳۵۳) یہ عمرو بن جموح حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام کے بہنوئی تھے جو اسی غزوہ میں شہید ہوئے۔بہن کے خاوند عمرو کی طرح بیوی کا بھائی بھی ایک امتیازی شان کا مالک تھا چنانچہ ان کی شہادت کے بعد اللہ تعالیٰ نے خود آنحضور کو یہ خبر دی کہ جب عبداللہ شہادت کے بعد خدا کی جناب میں حاضر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا کہ بتا آج تیری رضا کیا ہے؟ اس پر عبداللہ بن عمرو نے عرض کیا میری رضا تو بس یہی ہے کہ تو مجھے ایک دفعہ پھر زندہ کر دے اور میں محمد مصطفی کے ساتھ ساتھ تیری راہ میں جہاد کرتا ہوا پھر مارا جاؤں، تو پھر مجھے زندہ کر دے اور میں پھر رسول اللہ کی معیت میں جہاد کرتا ہوا مارا جاؤں اور تو مجھے پھر زندہ کر دے اور پھر میں تیرے رسول کی معیت میں جہاد کرتا ہوا مارا جاؤں۔شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۳۵۷) اس واقعہ میں طرح طرح کا حسن کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور جس کروٹ سے اسے دیکھیں