خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 338 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 338

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 338 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ اس کا مقابلہ کون کرے گا ؟ اس دفعہ بھی حضرت وہب بن قابوس مزنی نے اپنے آپ کو پیش کیا کہ یا رسول اللہ ! اس سے بھی میں ہی نمٹ لوں گا۔یہ اپنی تلوار لے کر کھڑے ہوئے اور ان کا قلع قمع کر کے رکھ دیا جس سے انہیں بھاگتے ہی بنا اور یہ ان کو بھگا کر پھر اپنی جگہ چلے آئے پھر تیسری مرتبہ ایک اور مشرکوں کی جماعت آگے بڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب دستور فرمایا کہ ان کے مقابلہ میں کون ڈٹے گا۔اس دفعہ بھی حضرت مزنی نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میں ڈٹوں گا۔اس پر حضور نے فرمایا کہ اچھا اٹھ اور جنت کی بشارت لے۔چنانچہ یہ نہایت خوشی خوشی یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوئے کہ خدا کی قسم اب تو خود چین سے بیٹھوں گا اور نہ ہی دوسروں کو چین سے بیٹھنے دوں گا اور ایک دم سے مشرکوں کے غول میں ان پر تلوار بجاتے ہوئے گھسے چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسلمانوں سمیت کھڑے ہوئے ان کی حالت کو دیکھ رہے تھے۔یہاں تک کہ ان کے آخر تک پہنچ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے دعا کرتے تھے اے اللہ ! ان کے حال پر اپنا فضل و کرم کر۔اس کے بعد حضرت وہب لوٹ کر پھر ان میں گھس گئے اور ان کو چیرتے پھاڑتے ان کے آخر تک پہنچ گئے اور دیر تک ان کا برابر یہی حال رہا۔آخر دشمنوں نے موقع پا کر ان کو گھیر لیا اور ان کی تلواریں اور برچھے یکدم سے ان پر پڑنے لگے جس سے یہ بہت زخمی ہوکر شہید ہو گئے۔چنانچہ لڑائی فرو ہونے کے بعد جب ان کے زخم گئے گئے تو وہ کل ہیں گھاؤ نکلے جو برچھوں کے تھے اور سب کے سب ایسے نازک موقعوں پر لگے ہوئے تھے کہ جن کے زخمی ہونے کے بعد آدمی کا جانبر ہونا مشکل و محال ہے اور ان کے شہید ہونے کے بعد ان کی لاش کا بری طرح مثلہ کیا گیا تھا۔( شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۳۶۷، ۳۶۷) آنحضور جنگ کے حالات کا بڑے سکون اور اطمینان کے ساتھ جائزہ لے کرح ضرورت اپنے چند ساتھیوں کو کبھی ایک حملہ آور گروہ کی طرف بھجواتے تو کبھی دوسرے کی طرف۔جب اکیلے رہ جاتے تو خود تیر چلانے لگتے۔جب جاں نثاروں میں کوئی اپنا مشن پورا کر کے واپس آجا تا تو آنحضور اس کی راہنمائی اور مددفرماتے۔خود اپنے ہاتھ سے تیرا ٹھا کر پکڑاتے۔تیرختم ہو جاتے تو دشمن کے چلائے ہوئے تیر جو آپ کے چاروں طرف بکھرے پڑے تھے وہ اٹھا اٹھا کر اپنے معتمد تیراندازوں کو پکڑاتے جاتے۔اگر کوئی تیر نہ ملتا تو دعائیں کر کے تیر اندازوں کے ہاتھوں میں کوئی