خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 339 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 339

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 339 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء سیدھی سی لکڑی ہی تلاش کر کے تھما دیتے اور آپ کی دعا کی برکات سے وہی لکڑی بہترین تیر کا کام دے جاتی۔یہ صحابہ اگر چہ بار بار حملہ کر کے دور تک دشمن کی صفوں میں گھس جاتے لیکن یوں لگتا ہے کہ آنحضور کا ہجر اور آپ کا فکران کو پھر کھینچ کر آنحضور کے قدموں میں لے آتا۔ان کے سینے اور ان کی پیٹھیں آنحضور کے لئے سپر بن جاتیں۔معلوم ہوتا ہے کہ ان کے شوق شہادت پر آنحضور کی حفاظت کا خیال اس قوت کے ساتھ غالب آچکا تھا۔کہ زخم پر زخم کھانے کے باوجود یہاں تک کہ بدن چھلنی ہو گئے ان کی جان سینے میں انکی رہی۔آنحضور کے ان ذاتی محافظوں کا اتنے زخم کھا کر بھی بیچ رہنا ایک حیرت انگیز معجزہ ہے جو اس ارشاد باری تعالیٰ کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے: لَهُ مُعَقِّبْتُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُوْنَ مِنْ اَمْرِ اللهِ (الرعد: ۱۲) b یعنی اس کے آگے اور پیچھے ایسے محافظ مقرر کر دیئے گئے ہیں جو باری باری اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ بعض اوقات رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جنگ میں سوائے میرے اور سعد کے کوئی بھی باقی نہ رہتا تھا۔( صحیح بخاری کتاب المناقب باب ذکر طلحہ بن عبید اللہ ) انہی سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بچایا (یعنی آپ کو تیروں سے بچانے کے لئے سپر بن گئے ) اور ہاتھوں سے اتنے تیر لگے کہ وہ لنجے ہو گئے۔( شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحہ: ۳۳۹ - ۳۴۰) حضرت (ابو ) طلحہ نے اپنے سارے تیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پھیلا دیئے کہ حضور ! دیکھئے میں اس قدر تیر چلاؤں گا اور یہ بڑے زبر دست تیرانداز تھے اور بلند آواز تھے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لشکر میں اکیلے طلحہ کی للکار چالیس آدمیوں سے بہتر ہے اور ان کے ترکش میں پچاس تیر تھے انہوں نے وہ سب تیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بکھیر دیئے پھر چیخ مار کر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! بس میری جان آپ پر قربان ہے اور ایک ایک تیر د مادم چلانے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے ان کے کندھے پر سے سر نکالے جھانک رہے تھے کہ تیر کہاں جاتے ہیں اور کس کس کو لگتے ہیں؟ آخر جب تک ان کے تیرختم ہوئے یہی