خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 337 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 337

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 337 غزوات النبی میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء بہت سخت اذیت پہنچائی مگر قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آپ کو دین حق دے کر بھیجا کہ باوجود اس قدر اذیت کے میں نے آپ کو آپ کی جگہ سے ایک بالشت بھی ہٹتے ہوئے نہیں دیکھا۔آپ بڑے استقلال کے ساتھ دشمنوں کے مقابلہ میں ڈٹے رہے اور مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ کبھی تو ان کی کوئی جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو جاتی اور کبھی پھر متفرق ہو جاتی تھی اور اس بیجان کی حالت میں میں نے حضور کو دیکھا کہ آپ اپنی جگہ پر جھے ہوئے کبھی تو مشرکوں پر اپنی کمان سے تیر چلاتے تھے اور کبھی پتھر مارنے لگ جاتے تھے۔یہاں تک کہ مشرکوں کا جوش و خروش تھم گیا اور وہ حملہ کرتے کرتے ٹھہر گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوں کے توں اپنی اس چھوٹی سی جماعت میں مشرکوں کے مقابلہ میں نہایت صبر و استقلال کے ساتھ ثابت قدم رہے اور ڈٹے رہے اور باوجود ایسے زور شور کے حملہ کے آپ کے قدم میدان سے ذرا نہیں ڈگمگائے۔جو آدمی آپ کے ساتھ ایسے نرغہ کے وقت میں صبر کے ساتھ بدستور ثابت قدم رہے وہ صرف چودہ آدمی تھے۔سات تو مہاجرین میں سے تھے اور سات انصار میں سے تھے مہاجرین میں سے تو یہ تھے حضرت ابوبکر حضرت عبدالرحمن بن عوف ، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت طلحہ بن عبید اللہ ، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح اور حضرت زبیر بن العوام۔اور انصار میں سے حضرت حباب بن منذر، حضرت ابودجانہ۔حضرت عاصم بن ثابت ، حضرت حارث بن معمر۔حضرت سہل بن حنیفہ اور حضرت عمیر بن حضیر اور حضرت سعد بن معاذ ( شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۳۲۱، ۳۲۲) ہیجان خیز حالت میں انتہائی سکون کے ساتھ اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کی قیادت حضرت وہب بن قابوس" کو شہادت کی خوشخبری جب ( کفار کی ) ایک جماعت مسلمانوں پر حملہ کرنے کو آگے بڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی طرف خطاب کر کے فرمایا اس جماعت کا کون مقابلہ کرے گا ؟ اس پر حضرت وہب بن قابوس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں کروں گا۔چنانچہ یہ اپنی تیر کمان لے کر کھڑے ہو گئے۔اور اس جماعت پر اتنے تیر برسائے کہ ان کا منہ پھیر دیا اور آخر کار وہ عاجز ہوکر لوٹ گئے اور حضرت وہب اپنی جگہ پر چلے گئے۔اس کے بعد پھر دوسری جماعت آئی اور اس کے لئے بھی