خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 331
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 331 غزوات النبوی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء پھولوں سے چمٹ کر ان کے تہہ بہ تہہ حسن کا جائزہ لیتا ہے۔اس دن لڑائی کے اختتام پر حالت یہ تھی کہ ایک طرف تو مسلمان مجاہدین جسمانی طور پر ہی نہیں جذباتی اور نفسیاتی طور پر بھی شدید زخمی تھے تو دوسری طرف لشکر کفار ایک ظاہری فتح کے باوجود سخت نا کامی اور نامرادی کا احساس لئے ہوئے لوٹ رہا تھا۔جوں جوں کفار مکہ اس امر کا جائزہ لیتے تھے کہ جنگ کے اختتام پر انہوں نے کیا پایا اور کیا کھویا تو پہلے سے بڑھ کر اس بات کے قائل ہوئے جاتے تھے کہ عملاً ان کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا۔نہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنے میں کامیاب ہو سکے نہ فتح مدینہ نصیب ہوئی ، نہ مسلمانوں کے اموال ان کے ہاتھ آئے اور نہ مسلمان عورتوں اور بچوں کو لونڈیاں اور غلام بنا سکے۔ہر چند کہ مسلمان شہداء کی تعداد ان کے مرنے والوں سے زیادہ تھی لیکن تنہا یہی فوقیت ان کے کھولتے ہوئے سینوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کافی نہ تھی۔پس غلبہ کا وقتی نشہ اتر جانے کے بعد جب ٹھنڈے دل سے انہوں نے اپنے نفع نقصان کا جائزہ لیا تو احساس فتح احساس نامرادی میں بدل گیا اور اس نامرادی کی تلخی اس حد تک بڑھی کہ بالآخر انہوں نے یہ تہیہ کر لیا کہ مسلمانوں پر ایک مرتبہ پھر شدید حملہ کیا جائے اور جب تک مدینہ مکمل طور پر فتح نہ ہو جائے اور مسلمانوں کا پوری طرح استیصال نہ ہو جائے واپس مکہ نہ لوٹا جائے۔اس ارادہ کے ساتھ انہوں نے چند منزلوں کے فاصلہ پر پڑاؤ کیا اور نئے حملہ کے بارہ میں باہم مشورے ہونے لگے۔اب دیکھو! کیا یہ حد سے زیادہ تعجب کی بات نہیں کہ جس دشمن کو نیم جان اور کمزور اور بد حال سمجھ کر وہ اس کی قسمت کا آخری فیصلہ کرنے اور مکمل طور پر اُسے نابود کر دینے کے ہدارا دے لئے ہوئے باہم مشوروں میں مشغول تھے وہی زخمی اور لا چار دشمن خود ایک شکاری کی طرح ان کے تعاقب میں چلا آیا تھا اور کھلے میدان میں پڑاؤ کر کے ان کی واپسی کا منتظر تھا۔جنگ اُحد کے دوسرے ہی روز آنحضور کا مجاہدین اسلام کو مجتمع کر کے دشمن کے پیچھے دُور تک نکل جانا اور تین دن ایک کھلے میدان میں اس کے انتظار میں پڑاؤ کئے رہنا ایک ایسا واقعہ ہے جس پر غور کرنے سے آنحضور کی بصیرت اور سیرت کے بعض نہایت لطیف اور دل نشین پہلو سامنے آتے ہیں۔ا۔مسلمانوں سے احساس شکست کو کلیۃ مٹانے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی اقدام ممکن نہ تھا کہ انہیں بلا توقف از سرنو مقابلہ کے لئے میدان قتال میں لے جایا جائے۔